Day: October 24, 2020

Science

واٹس ایپ نے اپنے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کردیا

واٹس ایپ نے اپنے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرادیا ہے جو کسی بھی چیٹ کو ہمیشہ کے لیے 'خاموش' کرسکے گا۔ یہ فیچر ایسے صارفین کے لیے کارآمد ہوگا جو اسپام میسجز کی بھرمار کرنے والے افراد یا گروپس سے تنگ رہتے ہیں۔ آل ویز میوٹ نامی اس فیچر پر گزشتہ کئی ماہ سے کام ہورہا تھا اور اب اسے تمام صارفین کے لیے متعارف کرا دیا گیا ہے۔  اس فیچر کی مدد سے صارفین کسی بھی کانٹیکٹ یا گروپ کے نوٹیفکیشن کو ہمیشہ کے لیے میوٹ کرسکیں گے۔ اس سے پہلے واٹس ایپ کی جانب سے کسی گروپ یا کانٹیکٹ کے مسلسل نوٹیفکیشن سے پریشان صارفین کو میوٹ کے 3 آپشنز دیئے جاتے تھے ، جن کی مدد سے نوٹیفکیشن کو 8 گھنٹے، ایک ہفتے یا ایک سال کے لیے میوٹ کیا جاسکتا تھا۔ مگر اب کسی بھی چیٹ کو ہمیشہ کے لیے میوٹ کرنا ممکن ہے۔ ایک ٹوئٹ میں واٹس ایپ نے اس نئے فیچر کو متعارف کرانے کا اعلان کیا، جس کا واضح مقصد صارفین میں ی...
Health

غیرمعیاری میڈیکل مصنوعات کے بارے میں الرٹ جاری

مختلف ادویہ ساز کمپنیوں کے تیار کردہ انجکشنز ملاوٹ شدہ و غیر معیاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ملاوٹ شدہ و غیر معیاری میڈیکل مصنوعات کے بارے میں میڈیکل الرٹ جاری کر دیا۔ ڈریپ نے متعلقہ کمپنیوں کو غیرمعیاری مصنوعات کے اسٹاک مارکیٹ سے واپس اٹھانے کی ہدایت بھی جاری کر دی۔ اس ضمن میں ڈریپ کا کہنا ہے کہ سنٹرل ڈرگ لیبارٹری کراچی نے پراڈکٹس کو ملاوٹ شدہ و غیر معیاری قرار دے دیا ہے۔ ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مصنوعات میں گلاس کے ذرات پائے گئے ہیں۔ ادویہ ساز کمپنیوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ تمام سیلز آفیسرز، سپلائرز، ڈسٹری بیوٹرز کو الرٹ جاری کیا جائے۔ ادویہ ساز کمپنیوں کو یہ ہدایت بھی جاری کی گئی ہے کہ تمام فارمیسز، اسپتال، سیل پوائنٹس اور استعمال کنندہ سے یہ مصنوعات واپس لی جائیں۔ ڈریپ نے ادویہ ساز کمپنیوں کو ی...
Science

فیس بک کے اپنے مواد کی نگرانی، اوور سائٹ بورڈ نے کام کا آغاز کردیا

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک کے اپنے مواد کی نگرانی اور متنازع مواد کو ہٹائے جانے یا اسے ویب سائٹ پر موجود رکھنے کا جائزہ لینے کے لیے بنائے گئے اوور سائٹ بورڈ نے کام کا آغاز کردیا۔ فیس بک نے رواں برس مئی میں ایک آزاد بورڈ تشکیل دیا تھا، جسے اوور سائٹ بورڈ کا نام دیا گیا ہے اور ابتدائی طور پر اس کے مختلف ممالک سے 20 ارکان منتخب کیے گئے ہیں۔ بورڈ میں پاکستان سے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف) کی سربراہ اور سماجی کارکن نگہت داد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ بورڈ میں یمن کی انسانی حقوق کی کارکن، صحافی اور نوبل انعام یافتہ خاتون توکل کرمانی، یورپی ملک ڈنمارک کی سابق وزیر اعظم ہیلے تھارننگ سکمدت، سابق امریکی فیڈرل کورٹ کے جج مائیکل مکنول، برطانوی اخبار دی گارجین کے سابق ایڈیٹر ایلن رسبریجر اور کولمبیا کی ماہر تعلیم کیٹالینا بوتیرو سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے 20 سی...