Day: October 17, 2020

Health

پاکستان میں کورونا وائرس کے مزید 13 مریض انتقال کرگئے

پاکستان میں کورونا کے مزید 13 مریض انتقال کرگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 6 ہزار638 تک جا پہنچی جبکہ اور567 مریضوں کی حالت تشویشناک ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ملک میں کورونا کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمارجاری کردیئے ہیں۔ جس میں بتایا گیا کہ ملک میں 24 گھنٹے میں کورونا کے 13 مریض انتقال کرگئے۔ جس کے بعد کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہزار638 ہوگئی۔ این سی اوسی کا کہنا ہے کہ ملک میں 24 گھنٹے کے دوران 32 ہزار465 کورونا ٹیسٹ کیے گئے، جس میں سے کورونا کے 641 مثبت کیسز سامنے آئے۔ جس کے بعد ملک میں کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 3 لاکھ 22 ہزار 452 تک جا پہنچی جبکہ کورونا وائرس کے9 ہزار 174 فعال کیسز ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے کہا ہے کہ ملک میں 24 گھنٹے کے دوران 805 کورونا مریض صحتیاب ہوئے اور اب تک مجموعی طور پر کورونا کے 3 لاکھ6 ہزار 640 مریض ...
Science

پلاسٹک فضلے کو ہائیڈروجن میں بدلنا کیسے ہوا ممکن؟ شہریوں کی پریشانی کا ہوا تدارک

دنیا بھرمیں ہرسال پیدا ہونے والا کروڑوں ٹن پلاسٹک کا فضلہ اب وبالِ جان بن چکا ہے۔ پلاسٹک ماحول میں سینکڑوں سال تک پڑا رہتا ہے لیکن اب مائیکروویوعمل سے گزار کر پلاسٹک کو ماحول دوست ہائیڈروجن ایندھن میں تبدیل کرتا ہے۔ اگرچہ کیمیاداں کئی برس سے پلاسٹک سے ہائیڈروجن بنارہے ہیں لیکن مائیکرویو کا عمل اسے آسان اور تیزتربنادیتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس میں توانائی کا خرچ بھی کم ہوتا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پیٹرایڈورڈز اور ان کے رفقائے تحقیق نے بتایا کہ صرف برطانیہ میں ہر سال 15 لاکھ ٹن پلاسٹک کا کچرا پیدا ہوتاہے جو ایک مرتبہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کا ضدی ڈھیر ثابت ہوتا ہے۔ اگر تھیلیوں کی بات کریں تو ان میں 14 فیصد ہائیڈروجن بلحاظ وزن پایا جاتا ہے۔اس طرح پلاسٹک میں سے ہائیڈروجن بطور ایندھن اخذ کیا جاسکتا ہے۔اس کا عام طریقہ تو یہ ہے کہ پلاسٹک کے کچرے کو انتہائی بلند درجہ ح...
Health

آنتوں تک دوا پہنچانا ہوا آسان، سائنسدانوں نے مقناطیسی مائیکروبوٹ تیار کرلیا

دنیا بھر میں دوا کو اس کے حقیقی مقام تک پہنچانے کی سر توڑ کوششیں ہورہی ہے اور اب اس ضمن میں ایک مقناطیسی مائیکروبوٹ بنایا گیا ہے جو آنتوں کے اندر لڑھکتا چلاجاتا ہے اور حسبِ خواہش مقام پر اپنی دوا خارج کرتا ہے۔ پرڈو یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا تیارکردہ بہت چھوٹا مقناطیسی روبوٹ جو آنتوں کے اندر لڑھکتا رہتا ہے اور اسے جسم کے باہر مقناطیس سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ اس روبوٹ سے دوا کو بروقت اپنے درست مقام پر پہنچایا جاسکتا ہے۔ اگر یہ دوا کو کامیابی سے خارج کرسکتا ہے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی اور بہت سے امراض کا علاج ممکن ہوجائے گا۔ اس سے قبل سائنسداں رینگنے والے، تیرنے والے اور پیچ کس کی طرح خلیات میں گھسنے والے روبوٹ بناچکے ہیں۔ لیکن اس روبوٹ پر 2018 سے کام شروع کیا گیا۔ اس خردبینی روبوٹ کے پیشِ نظر ٹیڑھی میڑھی آنتوں کے اندر کے غیرہموار راستے ہیں اور اسی وجہ سے یہ لڑھکتا ہو...
Health

مضرِ صحت کھلے دودھ کی فروخت، انتظامیہ بنی خاموش تماشائی، جانیے پسِ پردہ حقائق

پنجاب کے مختلف شہروں اور مضافاتی علاقوں میں کیمیکل ملے کھلے دودھ کی فروخت سرعام جاری ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔ سیالکوٹ کے شہری سستے داموں بکنے والے مضر صحت دودھ کو خریدنے پر مجبور ہیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ مضرصحت دودھ کی فروخت سے غریب عوام اور ان کے بچوں کی زندگیاں داؤ پرلگی ہیں جبکہ انتظامیہ اور دیگرحکام کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ سیالکوٹ اور اس کے گردو نواح سے گوالے دودھ جمع کرکے اسے فروخت کرنے کیلئے شہری علاقوں کا رخ کرتے ہیں، پانی ملے دودھ کو گاڑھا کرنے کیلئے کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے اس دودھ کی سپلائی بھی گندے برتنوں میں کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے ماہر صحت کا کہنا ہے کہ آج کل مارکیٹ میں جو کیمیکل ملا کھلا دودھ فروخت کیا جارہا ہے وہ انتہائی مضر صحت ہے، اس کے استعمال سے بچوں میں وٹامنز کی کمی ہوجاتی ہے، خصوصاً نوزائیدہ بچوں پر ا...