Month: October 2020

Science

دنیا کی کل معیشت سے کئی گنا زیادہ مالیت والا سیارچہ دریافت

امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے مریخ اور مشتری کے مدار میں گردش کرنے والا ایک ایسا سیارچہ دریافت کیا ہے جس میں موجود قیمتی دھات اور دیگر خزانوں کی مالیت دنیا کی کل معیشت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ غیر ملکی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایسٹرائیڈ 16 سائیکی (16 Psyche) کے نام سے معروف اس سیارچے سے متعلق ریسرچرز کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر لوہے اور نکل سے بنا ہوا ہے اور اگر ان کی قیمت کا اندازہ لگایا جائے تو یہ ایک کروڑ کھرب ڈالرز کی مالیت بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ناسا نے ہبل نامی ٹیلی اسکوپ کی مدد سے سیارچے کی تصاویر اکھٹی کی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ سارچہ دنیا سے 370 ملین کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ 16 سائیکی نامی سیارچہ سب سے پہلے 1852 میں دریافت کیا گیا تھا تاہم یہ پہلا موقع ہے جب سائنسدانوں نے ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اس کی لی گئی تصاویر کا جائزہ لیا ہے۔ ٹریسی بیکر...
Health

رضاکاروں میں کورونا وائرس منتقل کرنیکا فیصلہ: سائنس کا نیا باب

تحقیق میں ماہرین طب عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کے جراثیم صحتمند رضاکاروں کو منتقل کریں گے۔ اس تحقیق میں برطانوی ماہرین طب نے اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ یہ معلوم کرسکیں کہ عام شخص کو کووڈ 19 سے متاثر کرنے کے لیے وائرس کی کتنی طاقت درکار ہوتی ہے؟ میڈیکل سائنس میں اس طرح نیا باب رقم ہو گا۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق میڈیکل سائنس میں اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق کا نام دی ہیومن چیلنج پروگرام تجویز کیا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں لندن کا مشہور ایمپیریل کالج شریک ہو گا۔ طبی ماہرین کو قوی امید ہے کہ اس تحقیق کے نتیجے میں انہیں عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے، اس کے مضر اثرات کو کم کرنے اور اس سے ہونے والی اموات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ خبر رساں ایجنسی...
Science

خلائی مشن 'جونو' نے مشتری سیارے کی بالائی فضا میں 'جنات اور پریاں' دیکھیں: ناسا

ناسا نے انکشاف کیا ہے کہ روبوٹک خلائی مشن 'جونو' نے مشتری سیارے کی بالائی فضا میں مافوق الفطرت مخلوق 'جنات اور پریاں' دیکھیں۔ یوں تو یہ کسی خیالی ناول کی باتیں معلوم ہوتی ہیں لیکن پریاں (اسپرائیٹس) اور جن (ایلوز) دراصل 2 قسم کے تیز، بجلی کے روشن مناظر ہیں۔ اگرچہ یہ آسمانی بجلی جیسی چمکتی روشنی زمین پر دیکھی جاتی ہے لیکن پہلی مرتبہ کسی دوسرے سیارے پر ایسے مناظر دیکھے گئے ہیں۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق یورپی افسانوں کے مطابق اسپرائیٹس (sprites) ہوشیار، پری نما مخلوق ہیں جبکہ سائنس میں کہا جاتا ہے کہ یہ روشنی کے وہ روشن مراکز ہیں جو آسمانی بجلی سے متحرک ہوتی ہیں اور طوفان کے اوپر دکھائی دیتی ہیں۔ یہ مناظر زمین پر عموماً بڑے طوفانوں کے اوپر تقریباً 60 میل کی اونچائی پر دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ آسمان کو روشن کرنے والے ان اسپرائیٹس کی روشنی 15 سے 30 میل کے فاصلے تک پھیل س...
Health

چمگادڑوں میں کورونا وائرس ہے یا نہیں؟ تحقیق

روسی سائنسدانوں نے وہاں پائی جانے والی کچھ چمگادڑوں میں کورونا وائرس کی موجودگی کا پتہ لگایا ہے، اس بات کا انکشاف روسی سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈی میولوجی نے کیا ہے۔ روسی سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈی میولوجی کے فیڈرل سروس برائے سرویلنس برائے کنزیومر رائٹس پروٹیکشن اینڈ ہیومن ویلبنگ کے سائنسدان نے میڈیا کو بتایا کہ چمگادڑوں میں کورونا وائرس کا انکشاف ہوا ہے تاہم اس وائرس کی خاص قسم کی تصدیق کرنے کیلئے مزید تحقیقی کی جائے گی جس میں مزید دو سال لگ سکتے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ریسرچ سینٹر میں جینومکس اور پوسٹ جینو مک اسٹیڈیز کے گروپ کی سربراہ اناسپیر نسکایا نے کہا کہ اس تحقیق سے ہمیں وائرسز کی پوری رینوم کے جنیومز کی ترتیب قائم کرنے کا موقع ملے گا۔ محقیقن کے مطابق یہ تحقیق ماسکو ریجن کی چمگادڑوں ہر ہی کی جارہی ہیں تحقیقی کے مطابق یہ چمگادڑیں لوگو...
Health

سانس کے ذریعے کورونا کی تشخیص، آسان طریقہ دریافت

کورونا نہ صرف بطور مرض تکلیف دہ ہے بلکہ اس کی تشخیص کا عمل بھی انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے تاہم اب کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے آسان طریقہ دریافت کر لیا گیا ہے۔ حال ہی میں سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کی اسپن آف کمپنی میڈٹیک اسٹارٹ اپ بریتھونکس کی جانب سے کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ’بریتھالیسر ٹیسٹ‘ دریافت کیا گیا ہے جو ایک منٹ کے اندر کورونا وائرس کی تشخیص کر سکتا ہے۔ ’بریتھالیسر ٹیسٹ‘ میں پائلٹ کلینیکل ٹرائل کے دوران 180 مریضوں کے ٹیسٹ کیے گئے جس کے نتائج 90 فیصد درست ثابت ہوئے۔ فی الوقت کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے عمومی طور پر پی سی آر ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس میں ناک اور حلق سے نمونہ لیا جاتا ہے۔ یہ عمل کافی تکلیف دہ ہوتا ہے اور اس کے نتائج بھی چند گھنٹوں بعد سامنے آتے ہیں۔ نیا ’بریتھالیسر ٹیسٹ‘ صرف مشتبہ شخص کی سانس کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اسی کے ذریعے کورونا وائر...
Science

گوگل کی اجارہ داری ہونے کو ہے ختم، ایپل کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے سرچ انجن گوگل کی اجارہ داری ختم کرنے اور خود انحصاری کیلئے اپنے نئے سرچ انجن کی تیاری پر کام شروع کر دیا ہے۔ گوگل ہر سال ایپل کو 10 سے 12 ارب ڈالرز ادا کرتا ہے تاکہ ایپل کی ڈیوائسز پر مرکزی سرچ انجن کے طور پر رکھا جائے۔ رپورٹ کے مطابق گوگل کے ساتھ ایپل کا معاہدہ جلد ختم ہونے والا ہے اور گوگل کے خلاف امریکی محکمہ انصاف کے اینٹی ٹرسٹ کیس کے باعث اس میں توسیع نہیں ہوسکے گی۔ ایپل کے سرچ انجن میں صارفین کی پرائیویسی پر زور دیا جائے گا۔ ایپل کی جانب سے گوگل سے دوری اختیار کرنے کے لیے کافی عرصے سے کام کیا جارہا ہے۔ کمپنی کا ایپل بوٹ 2014 میں پہلی بار سامنے آیا تھا اور بتدریج ویب تک پہنچا جبکہ آئی او ایس 14 کی ہوم اسکرین پر ایپل نے ویب سائٹس کو ڈائریکٹ لنک کرکے گوگل کو مکمل طور پر بائی پاس کردیا۔ ایپل نے 3 سال قبل گوگل کے آرٹی فیشل انٹیلی جنس ش...
Science

تھری ڈی پرنٹنگ اورجدید ٹیکنالوجی سے بنی دنیا کی سب سے چھوٹٰی کشتی تیار

سائنسدانوں نے الیکٹرون خردبین، تھری ڈی پرنٹنگ اور دوسری جدید ٹیکنالوجی سے دنیا کی سب سے چھوٹٰی کشتی تیار کی ہے۔ یہ انسانی آنکھ سے بھی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ اس کی جسامت صرف 30 مائیکرومیٹر ہے۔ ہالینڈ کی لائڈن یونیورسٹی نے کشتی نما یہ شے ایک تحقیقی منصوبے کے تحت بنائی ہے جس میں ایسے مختصر روبوٹ بنانے تھے انسانی جسم یا خون کی رگوں میں دوڑ سکیں۔ ایسے روبوٹ کو بہت سے طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ لکڑی کی کشتی کا یہ انتہائی مختصر ماڈل تھری ڈی پرنٹر سے چھاپا گیا ہے جو ایسے پرنٹراور اس کی ٹیکنالوجی کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی ٹیم نے لیزر اور تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے کئی خردبینی اشیا بنائی ہیں۔ ان میں خلائی جہاز، گیندیں، اور دیگر اشکال شامل ہیں۔ ماہرچاہتے ہیں کہ جس طرح ہمارے جسم میں بیکٹیریا، الجی اور نطفے بھی تیرکر سفر کر...
Science

زمین سے مماثل ترین سیارہ دریافت، مزید جانئیے

نظامِ شمسی سے دُور، زمین جیسے کسی اور سیارے کی تلاش میں سائنسدانوں نے اب تک کا سب سے مضبوط امیدوار سیارہ دریافت کرلیا ہے جو اپنی جسامت اور کمیت میں بالکل ہماری زمین جیسا ہونے کے علاوہ، اپنے ستارے سے ٹھیک اتنے فاصلے پر گردش کررہا ہے کہ جو وہاں زندگی کی موجودگی کےلیے ضروری ہے۔ امریکا میں واقع ہارورڈ اسمتھسونیئن سینٹر فار ایسٹروفزکس کے سائنسدانوں نے ’’ایسٹروفزیکل جرنل‘‘ کے تازہ ترین شمارے میں تین مقالہ جات شائع کروائے ہیں جن میں یہ دریافت تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ (مقالہ 1، مقالہ 2، مقالہ 3) یہ سیارہ جسے ’’ٹی او آئی 700 ڈی‘‘ (TOI-700d) کا نام دیا گیا ہے، زمین سے 102 نوری سال دوری پر واقع ہے اور اسے ’’ٹرانزٹنگ ایگزوپلینٹ سروے سٹیلائٹ‘‘ (TESS) خلائی مشن کا ڈیٹا کھنگالنے کے بعد دریافت کیا گیا ہے۔تجزیئے کے مطابق، یہ اب تک ہمارے نظامِ شمسی سے باہر دریافت ہونے والے تمام سیارو...
Science

چوری کرنے والے دو ملزمان گوگل میپ کی مدد سے کیسے ہوئے گرفتار؟ جانیے تفصیلات

بھارتی ریاست کرناٹکا کی پولیس نے گوگل میپ کی مدد سے چوری کرنے والے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ کرناٹکا کی پولیس نے پیر کے روز مہارشٹرا سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں کو گرفتار کیا, جو گوگل میپ سے مکان کی نشاندہی کر کے وہاں چوری کرتے تھے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 28 لاکھ روپے مالیت کی گاڑی اور ساڑھے گیارہ لاکھ روپے کیش بھی برآمد کیا۔ پولسی کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزمان کی شناخت پراسانت کروشی اور اوینش ادوکار کے ناموں سے ہوئی، دونوں ملزمان ریاست مہارشٹرا کے گاؤں اسپورالائی کے ضلع کھولا پور کے رہائشی ہیں۔ بیلاگاوی پولیس کے مطابق دونوں ملزمان نے گوگل میپ کی مدد سے گھر کا انتخاب کیا اور پھر چند روز تک ریکی کرتے رہے، چوری والے دن ملزمان گھر کے باہر بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران پولیس نے انہیں دھر لیا۔ پولیس حکام کے مطابق ’ملزمان نے پہلے علاقے کا گشت کیا اور کئی روز سے بند ...