کیاماں کے دودھ سے بچے میں کورونا وائرس منتقل ہوسکتا ہے؟ اہم تحقیق آ گئی


نوول کورونا وائرس جیسے جیسے دنیا میں پھیل رہا ہے، بچوں کو دودھ پلانے والی ماؤں میں بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

اب تک ایسا کوئی کیس تو سامنے نہیں آیا جس میں کوئی بچہ ماں کے دودھ سے کووڈ 19 کا شکار ہوا ہو، مگر یہ سوالل موجود تھا کہ کیا اس سے وائرس کی منتقلی کا خطرہ تو نہیں۔

اب امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی سان ڈیاگو اسکول آف میڈیسین اور کیلیفورنیا یونیورسٹی لاس اینجلس کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ماں کے دودھ سے بچوں میں اس وائرس کی منتقلی کا کوئی خطرہ نہیں۔

طبی جریدے جاما کے آن لائن ایڈیشن میں شائع تحقیق میں امریکا بھر سے ایسی 18 ماؤں سے 64 دودھ کے نمونے اکٹھے کیے گئے، جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

64 میں سے 63 نمونوں میں وائرس دریافت نہیں ہوا جبکہ ایک میں وائرل آر این اے کا ٹیسٹ مثبت رہا مگر مزید ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ وائرس اپنی نقول بنانے سے قاصر ہے اور بچے میں بیماری کا خطرہ نہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ایک نمونے میں وائرل آر این اے کی تشخیص کا مطلب بیماری نہیں، درحقیقت وائرس کو کسی کو بیمار کرنے کے لیے اپنی تعداد بڑھانا ہوتا ہے اور ہم نے کسی نمونے میں ایسا دریافت نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ماں کا دودھ بچے میں کووڈ 19 کا باعث نہیں بنتا۔

تاہم ماؤں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ بچے کو دودھ پلانے سے قبل ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں۔

محققین کے مطابق ڈیٹا کی غیرموجودگی کے باعث کورونا وائرس سے متاثر کچھ مائیں بچوں کو دودھ نہ پلانے کا فیصلہ کرتی ہیں، ہمیں توقع ہے کہ ان نتائج اور مستقبل میں تحقیق سے خواتین کو یقین دہانی کانے میں مدد ملے گی کہ وہ بچوں کو دودھ سے محروم نہ کریں، ماں کا دودھ ماں اور بچے دونوں کے لیے انتہائی فوائد کا حامل ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں گے، جس میں ماں کے دودھ کے وائرس سے پاک ہونے کی مکمل تصدیق کرنے کے ساتھ دیکھا جائے گا کہ کیا اس میں متحرک اینٹی وائرل اجزا موجود ہوتے ہیں یا نہیں۔

مثال کے طور پر ایسی اینٹی باڈیز جو کورونا وارئس کو شکست دینے والی خواتین میں بنی ہوں اور وہ دودھ کے ذریعے بچوں میں منتقل ہوجائیں، جس سے انہیں کووڈ 19 سے تحفظ مل جائے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *