کچھ لوگ نیند میں باتیں کیوں کرتے ہیں؟ اہم وجہ سامنے آگئی


نیند کے دوران اپنے آپ سے باتیں کرنا جس کا علم بھی نہ ہو، بہت عام ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق 66 فیصد افراد کو اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا تجربہ ہوتا ہے۔

اگرچہ نیند میں باتیں کرنا عموماً بے ضرر ہوتا ہے اور اس کے لیے کسی قسم کے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم کئی بار دوسروں کی نیند ضرور خراب ہوجاتی ہے۔

مگر اس کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ یہ مکمل طور پر تو واضح نہیں مگر اب تک سائنس نے جو کچھ جانا ہے وہ درج ذیل ہے۔

جینیاتی اثر

تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ اکثر یہ عادت خاندان کے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتی ہے۔

فن لینڈ اور جاپان کی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ جڑواں بچوں کو نیند کے دوران باتیں کرنے کا تجربہ ڈراؤنے خوابوں اور نیند میں چلنے کے ساتھ ہوتا ہے۔

اسی طرح تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ جو لوگ نیند میں باتیں کرتے ہیں ان کے بچوں میں بھی اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

نیند کی کمی

ویسے تو نیند میں کوئی بھی کچھ بڑبڑا سکتا ہے مگر کچھ عناصر خصوصاً نیند کی کمی بھی اس کی ممکنہ وجہ ہوتی ہے۔

طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ نیند میں باتیں کرنے والے اکثر افراد نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، کیونکہ جب جسم کو آرام نہیں ملتا تو اس کا اثر دماغ پر ہوتا ہے اور نیند کا معیار متاثر ہوتا ہے۔

نیند کے مسائل

نیند کے دوران باتیں کرنے کو ایک طبی عارضہ بھی سمجھا جاتا ہے جسے طبی زبان میں somniloquy کہا جاتا ہے۔

ویسے تو ایسا کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے مگر ایسے افراد جن کو نیند کے دیگر مسائل کا سامنا ہوتا ہے، ان میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ نیند میں باتیں کرنا، نیند میں چلنے اور ڈراؤنے خوابوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔

مخصوص ادویات

ایسی متعدد ادویات ہیں جو نیند کو متاثر کرسکتی ہیں، جس کے نتیجے میں نیند کے مخصوص رویے جیسے باتیں کرنے کا تجربہ ہوتا ہے۔

عام طور پر سکون آور ادویات کا استعمال اس اثر کا باعث بنتا ہے۔

کیا اس کو کنٹرول کرنا ممکن ہے؟

ویسے تو ایسا کوئی واضح طریقہ کار نہیں جس سے نیند میں باتیں کرنے سے بچا جاسکے مگر کھ عادات میں تبدیلیاں لاکر کسی حد تک مدد مل سکتی ہے۔

ان عادات میں سونے کے وقت سے کچھ دیر پہلے زیادہ کھانے سے گریز، آرام دہ بستر اور تکیے، شام کو کیفین کے استعمال سے بچنا اور نیند کا ایک طے شدہ معمول اپنانا شامل ہیں۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *