کووڈ 19 کا خطرہ کم کرنا چاہتے ہیں؟ تو اس طاقتور ہتھیار سے مدد لیں


350 قبل مسیح میں ارسطو کی جانب سے نیند کے حوالے سے ایک تحریر میں عندیہ دیا تھا کہ کھانا ہضم کرنے کے دوران معدے میں گرم بخارات نیند کا باعث بنتے ہیں اور بخار کے شکار افراد کو نیند سے جلد صحتمند ہونے میں مدد ملتی ہے۔

ویسے یہ بخارات کا خیال تو ثابت نہیں ہوسکا مگر سائنسی شواہد سے یہ ضرور معلوم ہو چکا ہے کہ اچھی نیند عام نزلہ زکام، انفلوائنزا اور نظام تنفس کی بیماریوں کے خلاف نظام تنفس کو طاقتور بناتی ہے۔

اس تحقیقی کام سے عندیہ ملتا ہے کہ نیند ممکنہ طور پر کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے کے لیے ایک طاقتور ہتھیار ثابت ہوسکتی ہے، جو نہ صرف کووڈ 19 کا شکار ہونے یا اس کی شدت کم رکھنے میں مدد دے سکتی ہے، بلکہ وہ اس کی روک تھام کے لیے تیار ہونے والی ویکسینز کی افادیت بھی بہتر کرسکتی ہے۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ماہر مونیکا ہاک کے مطابق ‘ہمارے پاس ایسے متعدد شواہد ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ مناسب ووقت تک نیند ہر قسم کی بیماری کی روک تھام یا اس سے لڑنے میں مددگار ہوسکتی ہے’۔

انہوں نے کہا ‘مناسب نیند سے متعدد اموات کی روک تھام ممکن ہے یا علامات کی شدت کو کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے، مگر اس بارے میں حتمی جواب کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے’۔

کسی ویکسین کی دستیابی تک کووڈ 19 سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر ہی کسی فرد کو اس بیماری کے خطرے سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔

نیند اور اس وبائی بیماری کے حوال سے نیا ڈیٹا سامنے آرہا ہے اورر سائنسدانوں کوو توقع ہے کہ اچھی نیند مدافعتی نظام کو مضبوط بناسکتی ہے، جبکہ واضح گائیڈلائنز کے ذریعے لوگوں کو بتایا جاسکتا ہے کہ نیند کو اس وبا کی روک تھام کے لیے ہتھیار کے طور پر کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

نیند اور بیماری کا تعلق

نیند کی شدید کمی کے شکار افراد کی صحت پر طویل المعیاد بنیادوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، مختلف امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ ٹو، خون کی شریانوں سے جڑے امراض جیسے ہارٹ اٹیک یا فالج، ڈیمینشیا اور ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ان میں سے کچھ بیماریاں کووڈ 19 کا شکار ہونے پر اس وبائی مرض کی شدت میں سنگین اضافے کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔

والٹر ریڈ آرمی انسٹیٹوٹ آف ریسر سینٹر فار ملٹری سائیکاٹری اینڈ نیوروسائنسز ریسرچ کے لیفٹننٹ کرنل ونسینٹ کپلاڈی کے مطابق جب لوگ نیند کی کمی کے نتیجے میں تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں تو وہ زیادہ خطرات مول لینے سے ہچکچاتے نہیں۔

نیند کی کمی فوجیوں میں بہت عام ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان میں زیادہ وقت بیدار رہنے سے سوچنے اور دماغی افعال کے اثرات پر کام کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب آپ نیند کی کمی کے شکار ہوتے ہیں تو کسی بھی غلطی سے اپنے لیے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عام افراد اگر نیند کی کمی کے شکار ہوں تو وہ ذہنی طور پر سست یا بھلکڑ بن کر ماسک پہننا بھول سکتے ہیں جبکہ مدافعتی نظام پر اضافی تناؤ بڑھا دیتے ہیں۔

ایسے شواہد مسلسل سامنے آرہے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نیند کی کمی کا شکار کوئی فرد کسی بیماری کا شکار ہوتا ہے تو اس کے خلاف لڑنے کی صلاحیت کمزور ہوچکی ہوتی ہے۔

متعدد تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ نیند کے مختلف مسائل کے شکار افراد یا ایسے افراد جو ہر رات 5 یا 6 گھنٹے سے کم سوتے ہیں، ان میں نظام تنفس کی بیماریوں، بخار اور متعلقہ بیماریوں کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔

ویسے ہر رات 10 گھنٹے سے زائد نیند کو بھی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ دیر تک سونا ممکنہ طور پر لوگوں کو بیمار نہیں بناتا۔

اس کے برعکس پہلے سے کوئی بیماری لوگوں کے نیند کے دورانیے میں اضافے کا باعث بنتی ہے، یا ذیابیطس یا نیند کے دوران سانس کی رکاوٹ سے نیند کا معیار ناقص ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ رات کو زیادہ وقت تک سوتے ہیں۔

2015 میں امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی، سان فرانسسکو یونیورسٹی اور کارنیگی میلون یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں 164 صحتمند افراد کو شامل کیا گیا تھا اور انہیں ویئرایبل ڈیوائسز پہنا کر ان کی نیند کی عادات کا ایک ہفتے تک جائزہ لیا گیا، جس کے بعد انہیں لیبارٹری میں لے کر ان کی ناک میں عام نزلہ زکام کا باعث بننے والے رینو وائرس ٹپکا کر ایک ہوٹل میں 5 دن کے لیے قرنطینہ میں رکھا گیا۔

یہ وائرس نئے کورونا وائرس کی طرح جسم پر حملہ آور ہوکر اپنی نقول بناتا ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ 6 گھنٹے سے کم وقت تک سونے کے عادی تھے ان میں نزلہ زکام کی علامات کا امکان 7 گھنٹے تک نیند کے مزے لینے والوں کے مقابلے میں ساڑھے 4 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں شامل اریک پراتھر نے بتایا کہ رینو وائرسز کورونا وائرسز سے موازنے کے لیے اچھا انتخاب ہے، کیونکہ ان کے شکار افراد کا مدافعتی ردعمل بھی ایک جیسا ہوتا ہے۔

2017 کی ایک الگ تحقیق میں اریک پراتھر اور ان کی ٹیم نے 3 رینو وائرسز کے اثرات کا جائزہ 732 افراد میں لیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کم سماجی حیثیت کے حامل افراد میں نزلہ زکام کا امکان نیند کی کمی کے بعد بڑھ جاتا ہے، ایسا ہی کچھ نئے کورونا وائرس کے کیسز کی شرح میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

اریک پراتھے نے بتایا کہ لوگوں کی سماجی حیثیت ان کی نیند کے دورانیے پر اثرانداز ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ نیند کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور ممکنہ طور پر کووڈ 19 کے لیے آسان ہدف بھی بن جاتے ہیں۔

نیند اور مدافعتی نظام

ماہرین کی جانب سے نیند اور مدافعتی نظام کے درمیان تعلق کو جاننے کے لیے کام کیا جارہا ہے۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ماہر مونیکا ہاک کے مطابق ‘ہم جانتے ہیں کہ بیماریوں سے لڑنے کے لیے ہمیں نیند کی ضرورت ہے، مگر یہ کیس طرح کام کرتی ہے، اس بارے میں کافی کام کرنے کی ضرورت ہے’۔

2019 کی ایک تحقیق میں مونیکا ہاک اور ان کے ساتھیوں نے نیند کی تبدیلیوں سے مدافعتی نظام کے 3 درجن سے زائد عناصر پر اثرات کی فہرست مرتب کی۔

مثال کے طور پر ٹی سیلز مدافعتی نظام کا حصہ ہوتے ہیں اور اکثر انہیں بیماریوں کے خلاف لڑنے والے فوجی قرار دیا جاتا ہے۔

جرمن محققین کی تحقیقی رپورٹس کے مطابق نیند کے دوران ٹی سیلز خون میں سے نکل کر ممکنہ طور پر لمفی نوڈز میں چلے جاتے ہیں، جہاں وہ حملہ آور جراثیموں کی نگرانی کرتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق صرف ایک رات کی نیند کی کمی بھی ٹی سیلزز کو خون میں روکنے کے لیے کافی ہے، جس کے نتیجے میں ان کی حملہ آور جراثیموں کو جاننے اور ان کے خلاف ردعمل کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے۔

جب جسم نیند کی کمی کا شکار ہوتا ہے تو ٹی سیلز کا وائرس سے متاثر خلیات کا رابطہ بھی کمزور ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں بیماری کے خلاف لڑنے کی طاقت بھی کم ہوجاتی ہے۔

سائٹوکائین ایسے مالیکیولز ہیں جن کو کورونا وائرس کی سنگین شدت کے مریضوں سے جوڑا جاتا ہے، مگر یہ عنصر نیند اور مدافعت کے حوالے سے تحقیق کا مرکز بھی ہے۔

کارنیگی میلون یونیورسٹی کے ماہر شیلڈن کوہن کے مطابق یہ مالیکیولز اگر بہت زیادہ مقدار میں جسم کے اندر ہو تو ورم بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

سائٹو کائین عام طور پر کسی بیماری کے خلاف مدافعتی ردعمل کو منظم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور دیگر خلیات کو لڑنے کے لیے متحرک کرتے ہیں، تاہم جب ان مالیکیولز کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جائے تو اسے سائٹو کائین اسٹروم کا سامنا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں کووڈ 19 کی شدت سنگین بلکہ جان لیوا حد تک بڑھ جاتی ہے۔

نزلہ زکام اور انفلوائنزا کی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ ان بیماریوں سے متاثر افراد میں نیند کی کمی کی صورت میں علامات کی شدت بدترین ہوتی ہے، کیونکہ ممکنہ طو رپر ورم کا باعث بننے والے مالیکیولز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو ٹی سیلز اور دیگر مدافعتی خلیات کے نظام میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔

سائٹوکائین تنہا اپنا کام نہیں کرسکتے بلکہ یہ مدافعتی نظام کے عناصر میں توازن قائم کرتے ہیں۔

کووڈ 19 جیسے امراض میں یہ عمل کس طرح کام کرتا ہے، اس حوالے سے تحقیقی کام مسلسل کیا جارہا ہے۔

نیند، ویکسین اور کووڈ 19

چونکہ محققین لوگوں کو امراض بشمول کووڈ 19 کا شکار نہیں کرسکتے تو ویکسین ریسرچ ہی نیند اور مدافعتی نظام کے درمیان تعلق پر تحقیقات کا ایک اور ذریعہ ہے۔

اب تک اس حوالے سے کافی منظم کام ہوا ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ نیند مدافعتی نظام کو حقیقی مضبوطی فراہم کرتی ہے۔

خصوصاً یہ اینٹی باڈیز کے لیے حقیقت ہے جو ایسے طویل المعیاد پروٹینز ہوتے ہیں جو جسم کو جراثیموں کے خلاف ردعمل کی طاقت دیتے ہیں، اینٹی باڈیز سے ہی جسم ان بیماریوں کو پہچاننے کی صلاحیت حاصل کرپاتا ہے۔

ایسی ایک تحقیق 2002 میں ہوئی تھی جس میں لوگوں کے ایک گروپ کو 4 راتوں تک 8 گھنٹے سونے کی ہدایت دی گئی جس کے بعد انہیں فلو ویکسین دی گئی۔

فلو ویکسین دیئے جانے کے بعد ان افراد کو مزید 2 راتوں تک 8 گھنٹے سونے کا کہا گیا اور 10 دن بعد محققین نے دریافت کیا کہ ان افراد میں انفلوائنزا کے خلاف اینٹی باڈیز کی سطح ان لوگوں کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ بڑھ گئی، جو اس دورانیے میں ہر رات صرف 4 گھنٹے سوئے تھے۔

نیند کی کمی سے ہیپاٹائٹس اے، ہیپاٹائٹس بی اور سوائن فلو ویکسینز سے اینٹی باڈی ردعمل کی شدت بھی گھٹ گئی، کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق صرف ایک رات کی نیند کی کمی سے بھی ایسا ہوسکتا ہے۔

یعنی اچھی نیند کے ذریعے ممکنہ طور پر کووڈ ویکسین کی افادیت کو مزید بہتر بنانا ممکن ہوگا۔

2002 کی تحقیق میں شامل ماہرین بھی اس وقت کووڈ 19 کی ویکسین کی تیاری پر کام کررہے ہیں جس کے کلینیکل ٹرائل کا پہلا مرحلہ موسم سرما میں شروع ہوگا۔

محققین کا کہنا ہے کہ ان کا منصوبہ ہے کہ رضاکاروں کے ایک گروپ کو کئی راتوں تک 10 گھنٹے نیند کا کہا جائے گا جس کے بعد انہیں ویکسین دی جائے گی۔

اگر زیادہ وقت تک نیند سے ان افراد میں نیند کی کمی کے شکار لوگوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ردعمل سامنے آیا، تو مستقبل میں مزید تحقیقی کام میں یہ دیکھا جائے گا کہ مختلف امراض کی ادویات کا استعمال کرنے والے افراد میں یہ طریقہ کار بھی مفید ہوتا ہے یا نہیں۔

اس وقت محققین کی جانب سے نیند اور کووڈ 19 کے خطرات کے حوالے سے بھی ڈیٹا جمع کیا جارہا ہے جس کو اب تک شائع تو نہیں کیا گیا مگر مونیکا ہاک کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت اس موضوع پر متعدد تحقیقی رپورٹس پر نظرثانی کررہی ہیں اور نتائج حوصلہ افزا نظر آتے ہیں۔

نیند اس وبائی بیماری کا خطرہ بڑھانے والا واحد عنصر نہیں بلکہ دیگر عناصر بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔

مگر ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر اچھی نیند کو اہمیت دی جائے تو بیماری کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

ہر گھنٹے کم از کم 7 گھنٹے کی نیند سے اس وبا کے دوران صحت مند رہنے کے امکان کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *