کورونا ویکسین ٹرائل آخری مرحلے میں کیوں بند؟ اہم وجہ سامنے آ گئی


کورونا ویکسین کی آزمائش کے دوران ایک رضا کار میں خطرناک سائیڈ ایفیکٹس سامنے آنے پر دوا سا کمپنی نے مزید ٹرائل روک دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بین الاقوامی دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کی کورونا ویکسین ’’ AZ1222 ‘‘ کا رضاکاروں پر ٹرائل جاری تھا کہ اس آزمائش کے دوران کے ایک شخص میں شدید مضر اثرات نظر آئے ہیں جس پر کمپنی نے فوری طور پر کورونا ویکسین ٹرائل کو بند کردیا ہے۔

دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں جاری ٹرائل کے دوران ایک رضاکار میں ایسی پُراسرار بیماری سامنے آئی ہے جس کی وضاحت کرنا فی الوقت مشکل ہے۔ اس حوالے سے طبی ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔

آکسفورڈ اور آسٹرازینیکا کے اشتراک سے تیار ہونے والی یہ ویکسین آزمائش کے دو مرحلے کامیابی سے طے کرچکی ہے اور تیسرے مرحلے کا آغاز کچھ ہفتے قبل ہی ہوا تھا۔ ٹرائل کے بحال ہونے کا انحصار رضاکار کی بیماری کی وجوہات اور نوعیت سامنے آنے پر ہے۔

واضح رہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کی ویکسین ’’ AZ1222 ‘‘ کی طبی جانچ برطانیہ، برازیل اور جنوبی افریقہ میں آخری مراحل میں تھی جس میں 30 ہزار رضاکاروں نے حصہ لیا اور اسے اب تک کورونا کی سب سے مؤثر ویکسین کے طور پر لیا جا رہا تھا۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *