کورونا وائرس کے علاج کے لیے ایک عام دوا دریافت


معدے کے السر کے لیے عام استعمال ہونے والی ایک دوا نئے کورونا وائرس کی نقول بننے کے عمل کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بات ہانگ کانگ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی، جس کے مطابق جانوروں پر اس دوا کے استعمال سے کورونا وائرس کی نقول بننے کی روک تھام میں مدد ملی۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی کی یہ تحقیق طبی جریدے نیچر مائیکرو بائیولوجی میں شائع ہوگی اور اس میں کورونا وائرس کے ایک نئے اور پہلے سے تیار علاج کی دستیابی کا بتایا گیا ہے۔‎

محققین کا کہنا تھا کہ رینٹیڈائن بسمچ سٹریٹ (آر سی بی) نامی دوا کووڈ کے علاج میں اتنی ہی موثر ہوسکتی ہے جتنی ریمیڈیسور، اور وہ بھی بہت کم قیمت پر۔

آر سی بی میں ایک جزو بسمچ ہوتا ہے، جس کے بارے میں محققین کا کہنا ہے کہ یہ انسانوں اور جانوروں کے کورونا وائرس سے متاثہر خلیات میں وائرل لوڈ کو ایک ہزار فیصد تک کم کرسکتا ہے۔

چوہوں پر اس کے تجربات کے دوران وائرل لوڈ کی سطح میں پہلے کے مقابلے میں نظام تنفس کی اوپری اور زیریں نالی میں سو فیصد تک کمی آئی جبکہ وائرس سے ہونے والے نمونیا پر قابو پانا ممکن ہوا۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ریومنگ وانگ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ آر سی بی کی افادیت کا موازنہ ریمیڈیسیور سے کیا جاسکتا ہے۔ یہ محفوظ اور کلینیکل ٹرائلز میں استعمال کے لیے تیار ہے۔

تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ آر سی اس اہم ساختی پروٹین 13 کو ہدف بناسکتا ہے جو کورونا وائرس کے لیے نقول بنانے کے لیے ضروری ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ پہلی بار اس کا انکشاف ہوا ہے کہ اس وائرل انزائمے کو ادویات سے ہدف بنایا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر ریومنگ وانگ نے بتایا کہ یہ وائرل پروٹین ڈی این اے میں ایک قینچی کی طرح کام کرتا ہے اور اس طرح وائرس کو نقول بنانے کے لیے مدد فراہم کرتا ہے۔

تاہم آر سی بی اور اس کے اجزا اس وائرل پروٹین کو غیرفعال بناکر ڈی این اے میں ہونے والی توڑ پھوڑ کو روکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک بار جب اس پروٹین کو ناکارہ کردیا جائے تو وائرس اپنی نقول بنانے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی کے ایک اور پروفیسر ہونگزی سن نے کہا کہ اینٹی وائرل مزاحمت کے خدشات بہت کم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آر سی بی اس پروٹین کو ہدف بناتی ہے اور وہ بہت زیادہ بدل نہیں پاتا، ورنہ خلیات خود کو بچا نہیں پاتے، اس دوا کو ادویات کے کاک ٹیل کی شکل میں استعمال کرکے مختلف حصوں کو ہدف بنایا جاسکتا ہے، جس سے وائرس کے لیے مزاحمت کرنا مشکل ترین ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس دوقا کی قیمت ریمیڈیسیور کی قیمت سے 25 فیصد سے بھی کم ہوگی، جس کی عالمی سطح پر قلت ہے اور ایک کورس کے لیے 3 ہزار ڈالرز سے زیادہ خرچ کرنا پڑتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کی جانب سے اب امریکا میں پیٹنٹ کے لیے درخواست دی جائے گی تاکہ آر سی بی کو کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاسکے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *