کورونا وائرس کی نئی تحقیق نے ماہرین کو بھی حیران کردیا


کچھ عرصہ قبل دنیا بھر میں طبی ماہرین کے لیے کورونا وائرس کا ایک اور پہلو معمہ بن گیا تھا جسے سائیلنٹ یا ہیپی ہائپوکسیا کا نام دیا گیا۔

اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ ہائپوکسیا میں جسمانی بافتوں یا خون میں آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے مگر کووڈ 19 کے مریضوں میں جو اس کا اثر دیکھنے میں آرہا ہے ایسا پہلے کبھی دیکھنے یا سننے میں نہیں آیا۔

اس کے علاوہ خون گاڑھا ہونے سے لاتعداد ننھے لوتھڑے یا کلاٹس بننے کا مسئلہ بھی بہت زیادہ بیمار افراد میں دریافت کیا گیا ہے جو ہلاکتوں کا امکان بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔

نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ19کے بارے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی تفصیلات سامنے آرہی ہیں اور معلوم ہورہا ہے کہ یہ جسم میں کس طرح تباہی مچاتا ہے۔

پہلے یہ بات سامنے آئی کہ اس بیماری کے نتیجے میں دل کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے، گردے متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ دماغی صحت کی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق کوویڈ 19 کے کچھ مریضوں میں خون میں آکسیجن کی سطح انتہائی حد تک گر جاتی ہے مگر پھر بھی وہ ڈاکٹروں سے بات کررہے ہوتے ہیں، اپنے فونز پر اسکرولنگ کرتے ہیں اور خود کو ٹھیک ہی محسوس کرتے ہیں۔

حالانکہ عام حالات میں جسم میں آکسیجن کی اتنی کمی چلنے پھرنے یا بات کرنے کے قابل نہیں چھوڑتی بلکہ اتنی کمی میں بے ہوشی طاری ہونے یا موت کا خطرہ بھی ہوتا ہے مگر کووڈ 19 کے مریض اتنی کمی کے باوجود ہشاش بشاش اور چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔

عام طور پر خون میں آکسیجن کی سطح 95 فیصد ہوتی ہے اور پھیپھڑوں کے امراض جیسے نمونیا میں اگر اس سطح میں کمی آتی ہے تو مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں یعنی پھیپھڑوں میں پانی بھرنے لگتا ہے یا کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح بڑھنے لگتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسے ہیپی یا سائیلنٹ ہائپوکسیا کا نام دیا گیا کیونکہ کووڈ 19 کے مریضوں میں 95 فیصد کی بجائے 80، 70 بلکہ 50 فیصد کمی بھی دیکھی گئی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی، اب سائنسدانوں نے اس کی ایک ممکنہ وجہ تلاش کرلی ہے اور وہ ہے پھیپھڑوں میں خون کی شریانوں کا نمایاں حد تک پھیل جانا۔

ایشکن اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں کووڈ 19 کے شکار افراد کے پھیپھڑوں میں خون کی شریانیں بہت زیادہ پھیل جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں آکسیجن کی سطح میں بہت زیادہ کمی آتی ہے۔

اسی بات سے وضاحت ہوتی ہے کہ یہ اس طرح کے دیگر امراض جیسے اے آر ڈی ایس سے مختلف کیوں ہے؟ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے امریکن جرنل آف ریسیپٹری اینڈ کریٹیکل کیئر میڈیسن میں شائع ہوئے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *