کورونا وائرس کی تشخیص اب صرف ایک منٹ میں ممکن


سنگاپور میں ایک کمپنی نے کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ایک ایسا ٹیسٹ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو ایک منٹ کے اندر بیماری کے بارے میں بتاسکتا ہے۔

سانس نے کے ذریعے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے اس نئے ٹیسٹ کو سنگاپور نیشنل یونیورسٹی کی اسٹارٹ اپ بریتھ اونکس نے تیار کیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ 180 افراد پر پائلٹ کلینیکل ٹرائل میں اس ٹیسٹ نے 90 فیصد سے زیادہ حد ک درست نتائج فراہم کیے اور توقع ہے کہ اگلے سال کے شروع میں اس کے استعمال کی منظوری مل جائے گی۔

دنیا بھر میں ممالک کی جانب سے پولیمیئر چین ری ایکشن (پی سی آر) کے متبادل ٹیسٹوں کی تیاری پر کام کیا جارہا ہے۔

پی سی آر ٹیسٹ کی لاگت زیادہ جبکہ سپلائی کم ہے جس کی وجہ سے کچھ ممالک کو اس کی قلت کا سامنا ہے۔

سنگاپر کی کمپنی اب اپنے ٹرائل کو توسیع دے رہی ہے اور اسے توقع ہے کہ ٹیسٹ کے نتائج زیادہ مستند بنانے کے ساتھ اگلے سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران اسے کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

اس ٹیسٹ کی قیمت 20 ڈالرز ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ پی سی آر ٹیسٹوں کے مقابلے میں یہ 70 فیصد سستا ہے۔

مگر ماہرین کے خیال میں مریضوں کو تشخیص کے لیے یادہ حساس پی سی آر ٹیسٹوں کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

بریتھ اونکس کی شریک بانی اور سی ای او جیا زیونان نے بتایا ‘سانس کا یہ ٹیسٹ ایک ابتدائی لیول کی اسکریننگ ڈیوائس کے طور پر کام کرے گا، جسے کانفرنس، کھیلوں کے مقابلوں اور کنسرٹس میں استعمال کیا جاسکے گا’۔

اس ڈیوائس میں قابل تلف ماؤتھ پیسز استعمال ہوں گے اور اس طرح ڈیائن کیا گیا ہے تاکہ کسی طرح آلودہ نہ ہو۔

اس ڈیوائس میں کیمیائی مرکبات سانس کا تجزیہ کرکے تعین کریں گے کہ کوئی فرد کورونا کا شکار ہے یا نہیں، جس کا نتیجہ 60 سیکنڈ کے اندر ایک کمپیوٹر سے معلوم ہوگا۔

اگر اس کو ریگولیٹری منظوری ملتی ہے تو یہ دنیا میں کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والا سب سے تیز ترین ٹیسٹ بھی ہوگا۔

اکتوبر میں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے ایسا کووڈ 19 ٹیسٹ تیار کیا تھا جو کورونا وائرس کی تشخیص 5 منٹ سے بھی کم وقت میں کرسکتا ہے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے بتایا کہ اس ٹیسٹ کو ایئرپورٹس اور کاروباری اداروں میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کے لیے استمال کیا جاسکے گا۔

برطانوی یونیورسٹی کو توقع ہے کہ 2021 کے شروع میں اس ٹیسٹنگ ڈیوائس کی تیاری شروع کرسکے گی اور جبکہ منظورہ شدہ ڈیوائس اس کے 6 ماہ بعد عام دستیاب ہوگی۔

محققین کی جانب سے جاری پری پرنٹ تحقیق کے نتائج کے مطابق یہ ڈیوائس کورونا وائرس کو دیگر وائرسز کے درمیان بھی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ فزکس سے تعلق رکھنے پروفیسر اخیلس کاپانڈیز نے بتایا ‘ہمارا طریقہ کار فوری طور پر وائرس کے ذرات کو پکڑتا ہے، یہ ٹیسٹ سادہ، برق رفتار اور کم قیمت کا ہے’۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *