کورونا وائرس کا ایک اور خطرناک اثر کا انکشاف، مریضوں میں تشویش


نئے کورونا وائرس کے بارے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی معلومات سامنے آرہی ہے اور اب انکشاف ہوا ہے کہ اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 امراض سے بچانے والی اینٹی باڈیز کو ہمارے خلاف کرکے دماغ پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔یہ بات جرمنی میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اس تحقیق کے دوران 2 ہسپتالوں میں آئی سی یو میں زیرعلاج کووڈ 19 کے 11 مریضوں کو دیکھا گیا جن میں ایسے دماغی امراض دیکھے گئے تھے جن کی وضاحت ممکن نہیں تھی۔

ان مسائل میں epileptic seizures، مسلز کا رعشہ، اعصابی مسائل، آنکھوں کو حرکت دینے کے مسائل، سرسام اور دیگر شامل تھے۔

تحقیق کے نتائج پری پرنٹ ویب سائٹ medRxiv پر شائع ہوئے اور ابھی کسی طبی جریدے کا حصہ نہیں بن سکے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ آئی سی یو میں زیرعلاج کووڈ 19 کے مریضوں میں اکثر اوقات دماغی امراض پیدا ہوجاتے ہیں، مگر کورونا وائرس دماغی سیال میں نہیں پایا گیا۔

جس کے بعد محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا وائرس نے مریضوں کو متاثر کیا یا اس کے نتیجے میں مدافعتی نظام کا غیرضروری ردعمل حرکت میں آیا۔

خاص طور پر وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ اینٹی باڈیز اس حوالے سے کیا کردار ادا کرتی ہیں۔

اینٹی باڈیز عموماً جسم پر حملہ کرنے والے جراثیموں کو نشانہ بناتی ہیں، تاہم جب وہ جسم کو ہی ہدف بنالیں تو اس عمل کو آٹو اینٹی باڈیز کہا جاتا ہے۔

محققین نے مریضوں کے خون اور دماغی سیال کے نمونے اکٹھے کیے اور کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ دماغ اور اعصاب پر اثرانداز ہونے والی اینٹی باڈیز کو دیکھا۔

کورونا وائرس کسی بھی مریض کے دماغی سیال میں دریافت نہیں ہوسکا بلکہ ان کے خون یا دماغی سیال میں آٹو اینٹی باڈیز کو دیکھا گیا۔

اس کے بعد چوہوں کے دماغ کے ٹکڑوں میں تجربات میں محققین نے دیکھا کہ اینٹی باڈیز ٹشوز سے جڑجاتی ہیں۔

تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ کووڈ 19 کے کچھ مریضوں میں دماغی پیچیدگیاں ممکنہ طور پر وائرس کے خلاف مدافعتی ردعمل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

محققین کے خیال میں یہ وائرس بھی اعصابی ٹشوز کو ابتدائی نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے، جس پر ایک قسم کا مدافعتی ردعمل حرکت میں آتا ہے جو خود ٹشوز کو نقصان پہنچاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کا میکنزم ہرپیز وائرس انفیکشنز میں بھی نظر آتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہوجائے گا کہ مریضوں کی صحتیابی کے بعد یہ دماغی مسائل کتنے عرصے تک باقی رہتے ہیںٓ۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ تحقیق 11 مریضوں تک محدود تھی اور اس حوالے سے زیادہ بڑی تعداد میں لوگوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اینٹی باڈیز اور دماغی خلیات کے درمیان تعلق کی وضاحت ہوسکے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *