کورونا سے صحتیاب ہونے والے مریض کون سے خوفناک امراض کا شکار ہو رہے ہیں؟ اہم خبر آگئی


برطانیہ کے طبی ماہرین نے وارننگ جاری کی ہے کہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد میں ایک نئی بیماری جنم لے رہی ہے جو آنے والے دنوں میں ایک نئے وبائی مرض کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ اس بیماری میں متاثرین کو دماغی سوزش، اعصابی تکلیف، فالج اور سرسام (ہذیان) کی علامات پائی جاتی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے دوسرے چیک اپ کے دوران ڈاکٹرز شاید ایسے افراد کا دماغی جائزہ لینا بھول جاتے ہیں یا ان علامات پر دھیان نہیں دیتے۔

کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد میں دماغی امراض دیکھے جا رہے ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن اسپتال این ایچ ایس فائونڈیشن ٹرسٹ کے کنسلٹنٹ اور سینئر ماہر مائیکل زینڈی کہتے ہیں کہ یہ بہت ہی تشویش کی بات ہے کہ اگر کوئی مخفی وبائی مرض کورونا کے بعد سامنے آتا ہے۔

جس میں دماغ کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات تاخیر سے نظر آئیں، فی الحال اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن آئندہ برسوں میں یہ علامات لوگوں میں شدت کے ساتھ نظر آنے لگیں گی۔

دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق ویسے تو کوئی بھی خود کو نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کو بڑے پیمانے پر پھیلانے والا جسے طبی زبان میں سپر اسپریڈر کہا جااتا ہے۔

تصور نہیں کرسکتا، مگر اس کے بیشتر کیسز خاموشی سے انہیں پھیلانے والوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ طبی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع تحقیق میں بتایا کہ کورونا وائرس کے ایسے مریض جن میں واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

وہ امریکا میں لگ بھگ 50 فیصد کیسز کا باعث بنے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بغیر علامات والے یا علامات ظاہر ہونے سے چند دن قبل ہی مریض اس وائرس کو دیگر صحت مند افراد تک پہنچاسکتے ہیں اور وہ اس وبائی بیماری کے پھیلاؤ کا مرکزی عنصر ہیں۔

 




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *