کوروناوائرس کے ہوا کے ذریعے پھیلاؤ کے شواہد، نئی تحقیق نے سب کو چونکا کے رکھ دیا


عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کوروناوائرس کے ہوا کے ذریعے پھیلاؤ کے شواہد بھی مل رہے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ کروناوائرس عمومی طور پر وبائی مریض کے منہ یا ناک سے نکلنے والے وائرس کے جز سے پھیلتا یا پھر دوسرے کو متاثر کرتا ہے، لیکن اب عالمی ادارہ صحت نے وبا کے پھیلاؤ سے متعلق نئے خطرے کی طرف اشارہ کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے 32 ممالک سے 239 سائنس دانوں نے مشترکہ خط شایع کیا ہے جس میں باقاعدہ طور پر ہوا میں وائرس کی موجودگی کے شواہد اور ثبوت درج ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ ملکوں میں وائرس کی ہوا میں موجودگی سے جو بھی سانس لے رہا ہے وہ کرونا کا شکار ہورہا ہے۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت بھی اس امر کے سچ ہونا کا امکان ظاہر کررہا ہے۔

یاد رہے کہ 25 جون کو کولمبیا یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی تھی کہ ’فار یو وی سی‘ کی مصنوعی شعاعیں ہوا میں موجود کروناوائرس کو ختم کرسکتی ہیں۔ ریسرچ رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں نے تجربے کے دوران مخصوص جگہ پر کرونا وائرس کی نمی کے ذرات کو فار یو وی سی لائٹ کے سامنے سے گزارا جس کے بعد وائرس کو اکھٹا کیا گیا تاکہ نتیجہ معلوم کیا جاسکے۔

تحقیقی مطالعے کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر ڈیوڈ برونر کا کہنا تھا کہ تجربے کی رپورٹ سے واضح ہوا کہ مذکورہ لائٹ نے ہوا میں موجود کرونا کے ذرات کا 99.9 فیصد تک خاتمہ کردیا، وائرس کا کوئی بھی ذرا زندہ نہیں بچا۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *