کرونا وائرس ویکسین سب سے پہلے کسے دی جائے گی؟ عالمی ادارہ صحت نے پوری دنیا کو خوشخبری سُنا دی


عالمی ادارہ صحت نے پوری دنیا کو خوشخبری سُنا دی۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈ روس ایڈہنم کا کہنا ہے کہ اب تک 172 ممالک کرونا وائرس کی فراہمی یقینی بنانے والی مہم سے منسلک ہوچکے ہیںِ، کورونا وائرس ویکسین کی فراہمی سب سے پہلے طبی عملے کو بنائی جانی ضروری ہے۔

پوری دنیا میں تیار کی جانے والی کرونا وائرس ویکسین کو جلد اور کم قیمت میں تمام ممالک تک پہنچانے کے لیے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی قائم کردہ ویکس فیسلیٹی سے 172 ممالک منسلک ہوگئے۔

ڈبلیو ایچ او کی اس مہم میں ویکسین تیار کرنے والے 9 مینو فیکچررز بھی اس سے منسلک ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹید روس کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتہ انہوں نے تمام 194 رکن ممالک کو خط تحریر کر کے ان سے کوویکس فیسلیٹی سے منسلک ہونے کی درخواست کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اب تک 172 ممالک کوویکس گلوبل ویکسین فیسیلیٹی کے ساتھ منسلک ہوچکے ہیں۔

ٹیڈ روس کا کہنا تھا کہ ویکسین کی تیاری کے فوراً بعد اس کی سپلائی محدود رہے گی، اسی وجہ سے پوری دنیا میں پہلے یہ یقینی بنایا جائے کہ جو لوگ اس کے خلاف فرنٹ لائن پر ہیں، انہیں یہ پہلے مہیا کئی جائے۔

ان کے مطابق طبی عملے کو سب سے پہلے ویکسین دی جانی چاہیئے کیونکہ وہ وبا کے خلاف فرنٹ لائن پر رہ کر کئی زندگیاں بچا رہے ہیں اور پورے طبی نظام کو مستحکم رکھے ہوئے ہیں۔ ٹیڈ روس کا یہ بھی کہنا تھا کہ بعد ازاں 65 برس سے زائد عمر کے لوگوں اور کسی بیماری سے متاثرہ لوگوں کو بھی ترجیح دینی چاہیئے، اس کے بعد جب سپلائی میں اضافہ ہوگا تو دیگر افراد کو ویکسین دی جانی چاہیئے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *