ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے یو ایچ ایس کوکورونا ویکسین کیلئے لائسنس جاری کر دیا


ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے کورونا کے خلاف چین کی تیار کردہ کورونا ویکسین کے انسانوں پر تجربے کے لیے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو لائسنس جاری کر دیا ہے۔

ترجمان یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے مطابق چین کی تیارکردہ کورونا ویکسین کے انسانوں پر تجربے کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے تین سال کے لیے لائسنس جاری کیا گیا ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا ہے کہ ویکسین ٹرائل میں رضا کارانہ طور پر شریک ہونے والے افراد کو تین ہزار روپیہ بھی ادا کیا جائے گا، رقم کی ادائیگی کا مقصد رضاکارانہ طور ہر شریک ہونے والے افراد کی حوصلہ افزائی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق کوروناوائرس کے سبب پاکستان میں مزید16 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں اور مرنے والوں کی مجموعی تعداد6 ہزار775 ہوگئی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے908 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد3 لاکھ31ہزار108 ہوگئی ہے۔

پاکستان میں 3ماہ بعد ایک روز میں 900سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ملک میں 3 لاکھ12ہزار638کورونا مریض صحت یاب ہوچکے ہیں اور ایکٹو کیسز کی تعداد11 ہزار695ہے۔

کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار 347 اور سندھ میں 2 ہزار 611 اموات ہو چکی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اموات کی تعداد ایک ہزار 273، اسلام آباد میں 215، بلوچستان میں 149، ‏گلگت بلتستان میں 92 اور آزاد کشمیر میں 88 ہو گئی ہے۔

اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 19 ہزار454ہوگئی ہے۔ پنجاب ایک لاکھ 3 ہزار587، سندھ میں ایک لاکھ 44 ہزار765، خیبر پختونخوا میں 39 ہزار277، بلوچستان میں 15 ہزار 876، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 211 اور آزاد کشمیر میں 3 ہزار 938 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔

شہری گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک لازمی پہنیں۔ حکومتی اور نجی سیکٹرز کے دفاتر میں کام کرنے والوں کے لیے ماسک پہننا لازم ہوگا۔

صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بازاروں، شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس میں ایس او پیز اور ماسک کو لازم قرار دیں۔

این سی او سی کے مطابق ملک کے 11شہروں میں کورونا وباتیزی سے پھیل رہی ہے۔ پاکستان میں اسی فیصد کورونا کیسز گیارہ بڑے شہروں سے رپورٹ ہوئے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *