چنے کھانے کے وہ فائدے جن سے آپ لاعلم ہیں


چنے ایک دو نہیں بلکہ کئی طبی فوائد رکھتا ہے۔ اس میں فولاد، وٹامن بی 6، میگنیشم، پوٹاشیم اور کیلشیم کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ فاسفورس، تانبے اور میگنیز کی بھی خامی مقدار ملتی ہے۔ چنے کھانے کے طبی فائدے درج ذیل ہیں۔

اینیمیا سے محفوظ رکھتا ہے
جسم میں فولاد کی کمی سے لوگ اینیمیا کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن چنے کو اپنی غذا میں شامل کرنے سے اس عارضے سے بچا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر وہ خواتین اینیمیا کا شکار ہوتی ہیں جن کی خوراک میں بنیادی غذا شامل نہیں ہوتی۔ یہ عارضہ ان میں کمزوری اور تھکن کا سبب بنتا ہے۔

دماغی صحت بہتر بنانے میں معاون

چنے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں چولین جیسا اہم نیوٹریشن ہوتا ہے جو جگر کو فعال اور دماغ کو صحت مند رکھتا ہے۔ یاداشت، سیکھنے کے عمل اور مزاج میں اس کا بڑا اہم کردار ہے۔

نظام انہضام کے لیے مفید

چنے میں ریشے کی کثیر مقدار اسے نظام ہضم کیلئے مفید بناتی ہے ۔ یہ ریشہ آنتوں کی صحت اور مضبوطی کے لیے اہم ہے۔ یہ حل پذیر ریشے جسم کے لیے ضروری اور فائدہ مند بیکٹیریا کی تعداد بڑھاتے ہیں اور ان سے کولن کینسر کا خطرہ بھی کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔

ذیابطیس کے مریضوں کے لیے مفید

امریکی ذیابطیس ایسوسی ایشن کے مطابق چنے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہیں۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ 30 گرام چنے کھانے سے ذیابطیس کی ٹائپ ون میں مبتلا مریضوں میں جلن اورسوجن کو کم کرتا ہے جبکہ ایک اور تحقیق کے مطابق فائبر سے بھرپور غذا کھانے سے جسم میں گلوکوز کی سطح برقراررہتی ہے اور ذیابطیس کی ٹائپ ٹو کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔

کینسر کا خطرہ کم

چنے اینٹی آکسیڈنٹ اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں جو کینسر سے بچاؤ کے لیے بہت اہم ہیں۔ چنوں میں موجود فائٹو کیمیکلز کینسر کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہ فائٹو کیمیکلز ” سیپوننز” کہلاتے ہیں جیو سرطانی خلیات کی افزائش اور انہیں جسم میں پھیلنے سے روکتے ہیں۔ چنوں میں موجود ایک اور معدنی جز ” سیلینیم ” معدے کے کینسر کے سبب بننے والے جسمانی مرکبات کو غیر موثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

گوشت کا بہترین نعم البدل

چنے میں خاطر خواہ پروٹین ملتا ہے۔ اگر اسے کسی اناج مثلاً ثابت گندم کی روٹی کے ساتھ کھایا جائے، تو انسان کو گوشت یا ڈیری مصنوعات جتنی پروٹین حاصل ہوتی ہے اور بڑا فائدہ یہ ملتا ہے کہ نباتی پروٹین زیادہ حرارے یا سیچوریٹیڈفیٹس نہیں رکھتی۔

وزن کم کیجئے
چنے میں ریشہ (فائبر) اور پروٹین کثیر مقدار میں ملتے ہیں۔ پھر اس کا گلائسیمک انڈکس بھی کم ہے۔ اسی بنا پر چنا وزن کم کرنے کے سلسلے میں بہترین غذا ہے۔ کیونکہ عموماً ایک پلیٹ چنے کھا کر آدمی سیر ہوجاتا ہے اور پھر اُسے بھوک نہیں لگتی۔
دراصل چنے کا ریشہ دیر تک آنتوں میں رہتا ہے۔ لہٰذا انسان کو بھوک نہیں لگتی۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جو مرد و زن دو ماہ تک چنے کو اپنی بنیادی غذا رکھیں، وہ اپنا آٹھ پونڈ وزن کم کرلیتے ہیں۔ یاد رہے، ایک پیالی چنے عموماً پیٹ بھر دیتے ہیں۔

چنوں کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اُسے کئی ماہ تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور ان کی غذائیت کم نہیں ہوتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں بھگونے کے بعد استعمال کیا جائے،تو بہتر ہے۔ یوں وہ جلد ہضم ہوجاتے ہیں۔ چنوں کو چار تا چھ گھنٹے بھگونا کافی ہے۔ بھگونے کے بعد چنے جتنی جلد استعمال کیے جائیں، بہتر ہے۔ چنے بھگوتے ہوئے اُن میں تھوڑا سا نمک اور میٹھا سوڈا ڈال لیا جائے، تو وہ جلد گل جاتے ہیں۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *