چمگادڑوں میں کورونا وائرس ہے یا نہیں؟ تحقیق


روسی سائنسدانوں نے وہاں پائی جانے والی کچھ چمگادڑوں میں کورونا وائرس کی موجودگی کا پتہ لگایا ہے، اس بات کا انکشاف روسی سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈی میولوجی نے کیا ہے۔

روسی سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈی میولوجی کے فیڈرل سروس برائے سرویلنس برائے کنزیومر رائٹس پروٹیکشن اینڈ ہیومن ویلبنگ کے سائنسدان نے میڈیا کو بتایا کہ چمگادڑوں میں کورونا وائرس کا انکشاف ہوا ہے تاہم اس وائرس کی خاص قسم کی تصدیق کرنے کیلئے مزید تحقیقی کی جائے گی جس میں مزید دو سال لگ سکتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ریسرچ سینٹر میں جینومکس اور پوسٹ جینو مک اسٹیڈیز کے گروپ کی سربراہ اناسپیر نسکایا نے کہا کہ اس تحقیق سے ہمیں وائرسز کی پوری رینوم کے جنیومز کی ترتیب قائم کرنے کا موقع ملے گا۔

محقیقن کے مطابق یہ تحقیق ماسکو ریجن کی چمگادڑوں ہر ہی کی جارہی ہیں تحقیقی کے مطابق یہ چمگادڑیں لوگوں سے دوعر رہتی ہیں، اور یہ کہ دوسرے جانوروں سے زیادہ خطرناک نہیں ہوتیں لیکن لوگوں کو ان کو ہاتھ نہیں لگانا نچاہیے اور نہ ہی ان کے رہنے کی جگہ کو چھیڑنا چاہئے۔

اس سے قبل روسی صارفین کے حقوق کے تحفظ اور انسانی بہبود کے بارے میں فیئڈرل سروس برائے نگرانی کے سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈی میولوجی کے محققین نے روس میں پائی جانے والی چمگادڑوں میں کورونا وائرس تلاش کرنے سے متعلق بڑے پیمانے پر تحقیق کا کام شروع کیا تھا




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *