پاکستانیوں کی بڑی تعداد کورونا کے خلاف اینٹی باڈیز بنانے میں کامیاب


25 شہروں میں کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ملک بھر میں تقریباً 11 فیصد پاکستانیوں میں کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی قوت مدافعت پیدا ہوگئی ہے۔

 آغا خان یونیورسٹی سمیت متعدد شراکت داروں اور عالمی ادارہ صحت کی تکنیکی مدد کے ساتھ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی جانب سے رواں سال جولائی میں ‘نیشنل سیروپریویلینس اسٹڈی’ کا آغاز کیا گیا تھا۔

وزارت قومی صحت نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ڈبلیو ایچ او یونیٹی اسٹڈی کا ایک حصہ ہے جو 25 دیگر ممالک میں بیک وقت جاری ہے۔

سیروپریویلینس کا مطالعے اس مقصد کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ اس بات کا اندازہ لگایا جاسکے کہ آبادی کی کتنی فیصد نے وائرس سے حفاظتی قوت مدافعت (اینٹی باڈیز) تیار کیا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ‘دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہری علاقوں میں سیرو پوزیٹیوٹی زیادہ تھی، اسی طرح جن لوگوں نے کووڈ 19 سے متاثرہ شخص سے رابطہ کیا تھا ان کے خون میں اینٹی باڈیز ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے’۔

اس میں انکشاف کیا گیا کہ شہری علاقوں کی آبادی اور درمیانی عمر تک کے لوگ اس مرض سے زیادہ محفوظ ہیں تاہم دیہی علاقوں میں آبادی اور بزرگ شہریوں کو مہلک وائرس کی دوسری لہر سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

نوجوان بالغوں میں یہ وائرس زیادہ عام تھا جبکہ بچوں اور بوڑھوں میں یہ نمایاں طور پر کم ہے۔

اس تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جولائی میں ماسک اور بار بار ہاتھ دھونے کا استعمال بالترتیب تقریبا 60 فیصد اور 70 فیصد تک تھا جو گزشتہ مہینوں میں چلائی جانے والی آگاہی مہمات کی اہمیت اور کامیابی کی نشاندہی کرتی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں جو قوت مدافعت کی کم شرح رکھتے ہیں، مستقبل میں وبا پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے، ‘لہذا کورونا وائرس کے علاج کے لیے صحت کی سہولیات کو بہتر کرنے اور خاص طور پر دیہی اضلاع میں صحت کی سہولیات کو بڑھانے کی ضرورت ہے’۔

مائکرو بایولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر جاوید عثمان نے کہا کہ 11 فیصد آبادی میں اینٹی باڈیز کا انکشاف ان کی توقعات سے بہت کم ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ہرڈ امیونٹی (اجتماعی مدافعت) کے تصور سے بہت دور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر 50 فیصد سے زائد آبادی میں اینٹی باڈیز تیار ہوں تو ہرڈ امیونٹی کا تصور پیدا ہوتا ہے اگرچہ 22 کروڑ عوام اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سب کو علاج کی ضرورت ہے۔

کیونکہ اسے ‘سب کلینیکل انفیکشن’ کہا جاتا ہے جس میں مریضوں کو معمولی علامات ہوسکتی ہیں یا کوئی علامت نہیں، ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد بغیر علامات کے ہے۔

تاہم تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ 89 فیصد آبادی میں وائرس کا سامنا نہیں ہوا اور وہ وائرس کی دوسری لہر سے متاثر ہوسکتے ہیں’۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *