واٹس ایپ میں اب کانٹیکٹس کو 'ہمیشہ کیلئے خاموش' کرنا ممکن


فیس بک کی زیرملکیت میسجنگ اپلیکشن واٹس ایپ میں جلد ایک نئے فیچر کا اضافہ ہونے لگا ہے جو اسپام میسج کی بھرمار کرنے والے افراد یا گروپس سے تنگ صارفین کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔

واٹس ایپ اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی سائٹ WABetaInfo کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے نئے بیٹا ورژن 2.20.201.10 میں جو نئی تبدیلیاں نظر آئیں ان میں سے ایک آل ویز میوٹ نامی فیچر بھی ہے۔

اس فیچر پر گزشتہ کئی ماہ سے کام ہورہا ہے اور اب لگتا ہے کہ یہ بہت جلد تمام صارفین کو دستیاب ہوگا۔

اس فیچر کی مدد سے صارفین کسی بھی کانٹیکٹ یا گروپ کے نوٹیفکیشن کو ہمیشہ کے لیے میوٹ کرسکیں گے۔

اس وقت واٹس ایپ کی جانب سے کسی گروپ یا کانٹیکٹ کے مسلسل نوٹیفکیشن سے پریشان صارفین کو میوٹ کے 3 آپشنز دیئے جاتے ہیں، یعنی نوٹیفکیشن کو 8 گھنٹے، ایک ہفتے یا ایک سال کے لیے میوٹ کیا جاسکتا ہے۔

مگر اس فیچر میں ایک سال کا آپشن ختم کردیا جائے گا اور اس کی جگہ ہمیشہ یا آل ویز کا آپشن لے گا۔

تمام صارفین کی دستیابی پر یہ فیچر استعمال کرنے کے لیے واٹس ایپ اوپن کرکے مطلوبہ چیٹ کو کچھ دیر دبا کر رکھنا ہوگا، جس کے بعد اوپر بار میں کچھ آئیکونز نظر آئیں گے۔

وہاں میوٹ آئیکون کو سلیکٹ کریں گے تو 8 گھنٹے، ایک ہفتہ اور آل ویز کے آپشنز نظر آئیں گے، جس میں سے اپنی پسند پر کلک کرکے اوکے کو کلک کرنا ہوگا۔

ایسا کرنے کے بعد اس مخصوص چیٹ کے نوٹیفکیشنز ہمیشہ کے لیے میوٹ کیے جاسکیں گے۔

تاہم صارف اگر بحال کرنا چاہے تو اس چیٹ کو دوبارہ کچچھ دیر دبا کر ان میو یا اسپیکر آئیکون پر کلک کرنا ہوگا۔

اگر آپ بیٹا یوزر ہیں تو اس ورژن کو ڈاؤن لوڈ کرکے اس فیچر کی آزمائش کرسکتے ہیں۔

ویسے اگر آپ لوگوں کی جانب سے واٹس ایپ گروپس میں ایڈ کیے جانے پر پریشان ہیں تو گروپ پرائیویسی سیٹنگز میں ایک فیچر کو ان ایبل کرکے طے کرسکتے ہیں کہ صرف مخصوص افراد ہی کسی نئے گروپ میں آپ کو ایڈ کرسکیں۔

اس فیچر کو ان ایبل کرنے پر صارفین کو کسی گروپ کے لیے دعوت نامہ ملے گا اور انہیں براہ راست ایڈ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے واٹس ایپ اوپن کرکے سیٹنگز میں جائیں، وہاں اکاؤنٹ اور پھر پرائیویسی آپشن میں گروپس میں جائیں اور وہاں ایوری ون، مائی کانٹیکٹس یا مائی کانٹیکٹس ایکسیپٹ میں سے کسی ایک آپشن کا انتخاب کریں۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *