لاک ڈاﺅن کرنے سے کتنا فائدہ ہوتا ہے؟ تازہ تحقیق کے نتائج دیکھ کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے، جانیے تفصیلات


کورونا وائرس کی وباءپھیلی تو بعض ممالک نے لاک ڈاﺅن کی پالیسی اپنائی اور پاکستان سمیت کئی ممالک کے سربراہوں نے مکمل لاک ڈاﺅن کرنے سے انکار کیا اور وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے دیگر اقدامات کیے۔ اب کینیڈا اور امریکہ کے سائنسدانوں نے بھی نئی مشترکہ تحقیق میں اس دوسری قسم کے سربراہان مملکت کے موقف کو درست قرار دے دیا ہے۔

یونیورسٹی آف ٹورنٹو اور یونیورسٹی آف ٹیکساس کے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے حوالے سے لاک ڈاﺅن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس کی بجائے وباءآنے سے پہلے قوموں کی مجموعی صحت وباءسے ہونے والی ہلاکتوں پر بہت زیادہ اثرانداز ہوئی۔

سائنسدانوں نے اس تحقیق میں درجنوں ممالک میں وباءکی تباہ کاری اور ان ممالک کی حکومتوں کے اقدامات کا موازنہ کرکے نتائج مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ جن ممالک نے لاک ڈاﺅن کیا۔ وہاں کورونا وائرس کے پھیلاﺅ اور اموات کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ بھی اتنے ہی متاثر ہوئے۔

جتنے لاک ڈاﺅن نہ کرنے والے ممالک۔ قوموں کی مجموعی صحت، شہریوں کی اوسط عمر اور دیگر ایسے عوامل اس وباءکے پھیلاﺅ اور اموات پر بہت زیادہ اثر انداز ہوئی۔ جن ممالک میں موٹاپے کی شرح زیادہ تھی وہاں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 12فیصد زیادہ ہوئیں۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”جن ممالک میں شہریوں کی اوسط عمر 40سال تھی وہاں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 150کس فی 10لاکھ آبادی سے زائد ہوئیں۔

اس کے برعکس جن ممالک میں اوسط عمر 30سال تھی وہاں ہلاکتیں 25 کس فی 10 لاکھ سے بھی کم ہوئیں۔اس لحاظ سے عمر وہ سب سے بڑا فیکٹر تھا جو کورونا وائرس کے معاملے میں اثرانداز ہوا۔ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”لاک ڈاﺅن صرف اس صورت میں کسی حد تک مو¿ثر ثابت ہوا، جہاں وباءپھیلنے سے پہلے ہی پوری سختی کے لاک ڈاﺅن کر دیا گیا۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *