فیس ماسک کورونا کیسز کی شرح میں کمی کا سبب بنتے ہیں: نئی تحقیق سامنے آ گئی


فیس ماسک کا استعمال کورونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد میں ڈرامائی کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔

یہ دعویٰ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

کینیڈا کی سائمن فریزر یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چاردیواری کے اندر چہرے کو ماسک سے ڈھانپنے سے ہر ہفتے نئے کیسز کی شرح میں 46 فیصد تک کمی آئی۔

تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ اگر چاردیواری کے اندر فیس ماسک کے استعمال کو جولائی میں لازمی کردیا جاتا تو اگست کے وسط تک نئے کیسز کی شرح میں 40 فیصد تک کمی لائی جاسکتی تھی۔

تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ فیس ماسک کا استعمال لازمی قرار دیئے جانے کے بعد ابتدائی چند ہفتوں کے دوران ہفتہ وار کیسز کی شرح میں اوسطاً 25 سے 31 فیصد تک کمی آئی۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے اور اس میں اونٹاریو کے 34 طبی مراکز میں فیس ماسک کے استعمال کے اثرات کا جائزہ 2 ماہ تک لیا گیا۔

محققین نے نتائج کا موازنہ فیس ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دینے سے پہلے اور بعد کیسز کی شرح سے کیا۔

لیسٹرشائر رائل انفرمیری کے وائرلوجسٹ ڈاکٹر جولیان ٹانگ نے بتایا کہ اس حقیق سے ان شواہد میں اضافہ ہوا ہے جن کے مطابق فیس ماسک کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو سست کرنے کا موثر ذریعہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیبارٹری اور مشاہداتی تحقیقی رپورٹس میں فیس ماسکس کی افادیت کے حوالے سے عندیہ دیا گیا تھا کہ ان کا استعمال کیسز کی شرح میں بہت زیادہ کمی لاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی تحقیق میں شامل ماہرین نے اپنے طریقہ کار میں فیس ماسک کے حفاظتی اثرات کا تجزیہ کیا، جس میں دریافت کیا گیا کہ اس احتیاطی تدبیر سے کووڈ 19 کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔

ان کے بقول یہ تخمینہ لیبارٹری اور مشاہداتی تحقیقی رپورٹس سے کم ہے مگر پھر بھی اس سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کافی حد تک سست کیا جاسکتا ہے۔

رواں ہفتے ہی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ فیس ماسک کا استعمال لوگوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے زہریلے اثرات کا خطرہ نہیں بڑھاتا چاہے وہ پھیپھڑوں کے امراض کے شکار ہی کیوں نہ ہوں۔

اس تحقیق کے دوران کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے فیس ماسک پہننے والے افراد کے خون میں آکسیجن یا کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں تبدیلیوں کا تجزیہ کیا گیا جبکہ ایسے افراد کو بھی شامل کیا گیا جو پھیپھڑوں کی بیماری سی او پی ڈی کے شکار تھے۔

سی او پی ڈی کے شکار افراد کے لیے سانس لینا مشکل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں دم گھٹتا ہے اور وہ ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔

طبی جریدے اینالز آف دی امریکن تھوراسسز سوسائٹی میں شائع اس تحقیق میں فیس ماسک کے استعمال کے اثرات کا جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ ایسے افراد جن کے پھیپھڑے بیماری سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں، ان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ستمبر میں طبی ماہرین نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ فیس ماسک کورونا وائرس کے ذرات کو فلٹر کرکے ان کی شرح اتنی کم کردیتے ہیں جو ماسک پہننے والا جسم کے اندر کھینچ لے تو اس حد تک ہی بیمار ہوتے ہیں جس میں علامات سامنے نہیں آتیں۔

یعنی بالکل ویکسینیشن کی طرح کا کام فیس ماسک مدافعتی ردعمل کے حوالے سے کرتا ہے جو وائرس کی معمولی مقدار ماسک پہننے والے کے اندر پہنچا دیتا ہے جو کسی سنگین بیماری کا باعث نہیں ہوتا۔

طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع تحقیق میں کہا گیا کہ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوا تو بڑے پیمانے پر فیس ماسک وہ بھی کسی بھی قسم کے ماسک کا استعمال بڑھے گا اور اس سے کووڈ 19 کے بغیر علامات والے کیسز کی شرح بڑھے گی۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے محققین ڈاکٹر مونیکا گاندھی اور ڈاکٹر جارج رتھرفورڈ نے کہا کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ فیس ماسک اس طرح کام کرتے ہیں جیسا نظریہ انہوں نے پیش کیا ہے۔

محققین کے مطابق اگر چہرے کو ڈھانپنے سے کسی فرد میں متاثر کرنے والے وائرس کی کم مقدار جائے تو ان میں معمولی یا بغیر علامات کے بیماری کی تشخیص ہوتی ہے جس سے کسی حد تک امیونٹی یا مدافعت پیدا ہوجاتی ہے۔

مگر دیگر طبی ماہرین نے انتباہ کیا کہ فیس ماسک کو محفوظ اور موثر ویکسین کا متبادل نہ سمجھا جائے۔

ایموری یونیورسٹی کی ویکسین ماہر جیوٹی رنگارجن نے کہا کہ زندہ وائرس کی معمولی مقدار کو جسم میں اتار لینا کسی ویکسین کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ ہر فرد کا مدافعتی ردعمل مختلف ہوسکتا ہے جبکہ جینیاتی اور دیگر وجوہات بھی مدنظر رکھنا ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تو یہ ممکن ہے کہ بہت کم مقدار میں بھی یہ وائرس کچھ افراد کو بہت زیادہ بیمار کرسکتا ہے۔

مگر کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ فیس ماسک کا استعمال بیماری کے خطرے کو کم کرتا ہے جبکہ اس وقت جب دنیا ایک ویکسین کی منتظر ہے، اس وقت بغیر علامات والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ اس وبا کو کم جان لیوا بنانے کے ساتھ آبادی کی سطح پر مدافعت کو بھی بڑھا سکتا ہے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *