غیر ملکی سیٹلائٹ کے استعمال کو محدود کردیا، پاکستانی سیٹلائٹ کواستعمال کرنے کا فیصلہ


 حکومت غیر ملکی زرمبادلہ کی روانی سے بچنے کے لیے مقامی صارفین کے ذریعے پاکستانی سیٹلائٹ کی پوری صلاحیت کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) اپناتے ہوئے غیر ملکی سیٹلائٹ کے استعمال کو محدود کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

 نئی پالیسی ہدایات اور ایس او پیز آج طے شدہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔

 ایس او پیز کے بارے میں کچھ اہم اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کے اظہار کے سبب ای سی سی کے اراکین کو بھیجی گئی سمری واپس لی جاسکتی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی صدارت میں ای سی سی کو 9 نکاتی ایجنڈے پر بحث کرے گی، جس میں گیس فیلڈز کے 5 کلومیٹر کے دائرے کے علاقوں کو قدرتی گیس

کی فراہمی اور پورٹ قاسم پر صنعتی زون کی مختلف سہولیات کے لیے سمندری امور کی وزارت کی سمریز کی فہرست شامل ہے۔ پاکستانی ساختہ سیٹلائٹ آئندہ ماہ خلا میں روانہ کیا جائے گا۔

 2004 میں اس وقت کے وزیراعظم نے سیٹلائٹ لانچ کرنے کے فوری بعد پاکستانی سیٹلائٹ کی سہولیات کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی ہدایت جاری کی تھی۔

وزیر اعظم آفس کی جانب سے اس وقت جاری کردہ ‘پاک سیٹ پروگرام ” وے فارورڈ” کے تحت نفاذ کے لیے پیرامیٹرز اور معاہدوں کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں انتظامی، مالی اور ریگولیٹری

پہلو بھی شامل ہیں جن کو پالیسی کے فریم ورک میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی) نے مارچ 2019 میں وزیر اعظم کو ایک سمری میں قومی خلائی پروگرام کی پائیداری سے متعلق ریگولیٹری اور مالی پہلوؤں میں پیش رفت کو حل

کرنے کی کوشش کی، جو خلا کے میدان میں ہونے والی پیشرفتوں کا جائزہ لینے والا ایک مکمل پروگرام ہے اور اس کے اسٹریٹجک پروگرام کے ساتھ براہ راست روابط ہیں۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام نے ای سی سی کو مطلع کیا کہ 2004 سے قومی خلائی اثاثوں کے استعمال سے تقریباً 54 کروڑ 40 لاکھ ڈالر (85 ارب روپے) کی آمدنی ہوئی

ہے تاہم پاک سیٹ سیٹلائٹ خدمات کی مؤثر توسیع کے ذریعہ 2030 تک اس سے تقریباً 60 سے 70 کروڑ ڈالر پیدا کیے جاسکتے ہیں۔

ای سی سی کو سمری میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم کی سربراہی میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) نے پہلے ہی قومی خلائی پروگرام کی منظوری دے رکھی ہے۔

خلائی پروگرام کی پوری عمارت غیر ملکی اور ملکی مالی اعانت پر انحصار کو کم کرنے پر مبنی ہے۔

اسی طرح پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کی جانب سے فراہم کی جانے والی آمدنی سے حاصل ہونے والی سیٹلائٹ خدمات کومکمل طور پر استعمال کرنے کی

ضرورت ہے تاہم یہ فی الحال بنیادی طو پرمقامی سطح پرغیر منظم شدہ سیٹلائٹ مارکیٹ کی وجہ سے نہیں ہو پارہی ہیں۔

اس میں کہا گیا کہ پاکستان میں اس وقت سیٹلائٹ کی گنجائش کا استعمال تقریباً 2200 میگا ہرٹز ہے جس میں سے 21 فیصد پاکستانی سیٹلائٹ اور باقی غیر ملکی سیٹلائٹ پر ہے۔

مالی لحاظ سے سالانہ کم از کم 3 کروڑ 50 لاکھ سے 4 کروڑ ڈالر ملک سے باہر جارہے ہیں اور قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی میں پاکستان کے سیٹلائٹ صارفین کا حجم 2 کروڑ 24

لاکھ 80 ہزار ڈالر ہے۔

سمری میں وضاحت کی گئی ہے کہ خطے کے ممالک جیسے بھارت، چین اور بنگلہ دیش میں غیر ملکی سیٹلائٹ نظاموں کے استعمال پر پابندی عائد ہے اور اس طرح وہ اپنے خلائی

پروگراموں کو باقاعدہ مالی تحفظ دیتے ہیں۔

 پاکستان نے اپنے پہلے ریموٹ سیٹلائٹ کا کنٹرول حاصل کرلیا۔

وزیر اعظم نے انفارمیشن ٹکنالوجی اور ٹیلی کمیونکیشن کے وزیر کی سربراہی میں ایک بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دی جو سفارشات کے ساتھ ایک فریم ورک تیار کرے گی۔

کمیٹی نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد قومی اور مالی مفاد میں پاکستان میں سیٹلائٹ خدمات کے لیے سپارکو اور پاک سیٹ انٹرنیشنل کے ذریعہ تعینات قومی خلائی اثاثوں کے زیادہ سے زیادہ

استعمال کے لیے پالیسی اقدامات اپنانے کی سفارش کی۔

وزیر اعظم نے کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد وزیر کو ہدایت کی کہ وہ ایس پی ڈی، پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی اور دیگراسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پالیسی کے اختیارات

تیار کرے اور واضح سفارشات اور ایس او پیز کو تجویز کرے۔

وزیر نے رپورٹ کیا کہ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر پاکستان میں سیٹلائٹ خدمات کی فراہمی کے لیے پالیسی ہدایت کے ایک مسودے میں 2030 تک قومی خلائی پروگرام کے لیے 60

سے 70 کروڑ ڈالر کی رقم جمع ہونے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ مقامی سطح پر ترقی سے بالواسطہ فوائد حاصل کرنے کے علاوہ پالیسی ہدایت متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کو متعلقہ حکومتی قوانین کے مطابق ان سے متعلق اقدامات پر کارروائی

کرنے کی اہل بنائے گی۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *