شوگرکاعلاج اب ہواممکن، ماہرین نے اہم انکشاف کردیا


لگ بھگ ہر کچن میں موجود ایک عام چیز بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے مین مدد دے سکتی ہے۔

 دارچینی کا زیادہ مقدار میں استعمال وقت کے ساتھ بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

امریکا کے جوسلین ڈائیبیٹس سینٹر اور جنوبی کوریا کے کورین میڈیسین کلینیکل ٹرائل سینٹر کی اس مشترکہ تحقیق میں 51 رضاکاروں کو شامل کیا گیا تھا۔ان میں سے نصف کو 12 ہفتے تک روزانہ 3 بار 500 ملی گرام دارچینی سپلیمنٹ دیا گیا جبکہ دیگر کو ایک طبی مادہ پلیسبو کا استعمال کرایا گیا۔

آغاز کے 6 ہفتوں میں دونوں گروپس میں کوئی نمایاں فرق دیکھنے میں نہیں آیا، تاہم 12 ہفتوں بعد دریافت کیا گیا کہ جن افراد کو دارچینی سپلیمنٹ استعمال کرایا گیا، ان کے بلڈ شوگر کنٹرول میں بہتری دیکھنے میں آئی۔

یہ نتائج اس سے پہلے سامنے آنے والے شواہد کو تقویت پہنچاتے ہیں، جن کے مطابق کئی ماہ تک دارچینی کی زیادہ مقدار بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ اس کے ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں پر کسی قسم کے مضر اثرات بھی مرتب نہیں ہوتے۔

اس نئی تحقیق میں دارچینی کے اس فائدے پر تحقیقات کا مقصد ایسے افراد کے لیے محفوظ ، طویل المعیاد اور سستا علاج دریافت کرنا تھا جو ذیابیطس ٹائپ 2 سے پہلے کے مرحلے پری ڈائیبیٹس کا شکار ہوتے ہیں۔

ذیابیطس ٹائپ 2 دنیا میں سب سے عام امراض میں سے ایک ہے جس کے شکار افراد کی تعداد 46 کروڑ سے زائد ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید شواہد دارچینی کو ہائی بلڈ شوگر کے مہنگے اور نقصان دہ علاج جیسے سرجری اور ادویات کے مقابلے میں آسان، کم قیمت اور سادہ متبادل کے طور پر استعمال کرنے کا موقع مل سکے گا۔

2017 میں برٹش ہارٹ فاﺅنڈیشن کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ دار چینی کا روزانہ استعمال زیادہ چربی والی غذاﺅں کے منفی اثرات کو ریورس کرنے سمیت ہارٹ اٹیک کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

حقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ دارچینی جسم کے اینٹی آکسائیڈنٹ اور ورم کش نظاموں کو حرکت میں لاتی ہے جبکہ چربی کے ذخیرے کا عمل سست کردیتی ہے۔

تحقیق کے دوران چوہوں کو بارہ ہفتے تک زیادہ چربی والی غذاﺅں کے ساتھ دارچینی کے سپلیمنٹس کا استعمال کرایا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ان چوہوں کا وزن کم ہوا جبکہ توند کی چربی بھی گھٹ جاتی ہے۔

اسی طرح خون میں شوگر، انسولین اور چربی کی سطح صحت مند سطح پر پہنچ گئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ دارچینی زیادہ چربی والی غذاﺅں کے مضر اثرات کو کم کرنے میں مددگار مصالحہ ثابت ہوتا ہے۔

امراض قلب کے دوران اکثر دل کی جانب خون کی فراہمی بلاک ہوتی ہے یا اس میں مداخلت ہوتی ہے جس کی وجہ شریانوں میں چربی کے اجزاءکا اکھٹا ہونا ہے۔

ایسے ہونے پر انجائنا، ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلیئر جیسے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *