سائنس دانوں کا ذیابیطس کے بارے میں خوف ناک انکشاف


سائنس دانوں نے ذیابیطس کے بارے میں ایک اور خوف ناک انکشاف کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ذیابیطس ٹائپ 1 بچے کو پیدائش سے بھی قبل ہو سکتا ہے۔

طبی جریدے جرنل ڈائیبٹولوجیا کے مطابق 6 ماہ سے کم عمر بچوں میں ذیابیطس ٹائپ ون کا مرض ہو سکتا ہے اور اس عارضے کی جڑ ممکنہ طور پر پیدائش سے قبل ہی بن جاتی ہے۔

اس سے قبل یہ مانا جاتا تھا کہ 6 ماہ سے کم عمر بچوں میں صرف نیونیٹل ڈایابیٹیز (صرف نوزائیدہ بچوں کو لاحق ہونے والی ذیابیطس) ہو سکتی ہے جو کسی جیناتی نقص کا نتیجہ ہوتی ہے جس میں لبلبے کے خلیات کی انسولین بنانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

لیکن اب ماہرین کا کہنا ہے کہ نوزائیدہ بچوں میں بھی ذیابیطس ٹائپ ون کا مرض ہو سکتا ہے، اس دوران جسم کا اپنا مدافعتی نظام انسولین بنانے والے خلیات کو تباہ کر دیتا ہے۔

ماہرین اس تحقیق سے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ذیابیطس ٹائپ ون کے باعث جسم پر مدافعتی نظام کا حملہ کچھ نوزائیدہ بچوں میں ماں کے پیٹ ہی سے شروع ہو جاتا ہے؟ جس کے نتیجے میں انسولین کی سطح گھٹ جاتی ہے اور پیدائشی وزن کم ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ایلزیبتھ رابرٹسن کا کہنا تھا کہ زندگی کے ابتدائی چند مہینوں میں پہلی بار ذیابیطس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، یہ اہم نتائج اس بیماری کے بارے میں ہمارے فہم کو پھر سے ترتیب دے رہے ہیں کہ کہ کب اس حالت کا حملہ ہو سکتا ہے اور کب مدافعتی نظام میں خامی پیدا ہو سکتی ہے۔

برطانوی ریسرچ ڈائریکٹر ڈاکٹر ایلزیبتھ نے کہا کہ اب ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کب اور کیسے ذیابیطس ٹائپ ون اتنی کم عمری میں جسم میں پیدا ہو جاتی ہے، اس سے ہر عمر کے افراد کو ذیابیطس ٹائپ 1 کی وجوہ جاننے میں مدد ملے گی، اور ایسے علاج کے دریافت کے لیے بھی اہم ہوگا جو بچوں میں زندگی کو بدل دینے والی اس حالت کو روک سکے۔

برطانیہ کی ایگزیٹر یونی ورسٹی اور کنگز کالج لندن کے محققین نے اس سلسلے میں نوزائیدہ بچوں کے 3 گروپس کا مطالعہ کیا، محققین نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ذیابیطس ٹائپ 1 کا مرض ابتدائی چند ماہ کے دوران بھی بچوں میں ہو سکتا ہے اور کچھ نوزائیدہ بچوں میں تو یہ پیدائش سے قبل بھی ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر میتھیو جاسٹن نے کہا کہ ہم نے یہ بھی معلوم کیا کہ نوزائیدہ بچوں میں ذیابیطس کی تشخیص انسولین بنانے والے بیٹا خلیات کی مکمل تباہی سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ تحقیقی ٹیم اب اس بات کا مطالعہ کرنا چاہتی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مدافعتی نظام بننے سے قبل ہی اتنا شدید رد عمل ظاہر کر سکتا ہے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *