زوم ویڈیو کالز کے باعث پلاسٹک سرجری کے خواہشمند افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ


عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث ویڈیو کالنگ ایپ ‘زوم’ پر دفاتر کی میٹنگز میں اضافہ ہوا لیکن ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زوم ویڈیو کالز کی وجہ سے دنیا بھر میں پلاسٹک سرجریز کی مانگ میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی محققین نے بتایا ہے کہ زوم پر خود اچھا نہ دِکھنے کے باعث پلاسٹک سرجری کے خواہشمند افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

برٹش ایسوسی ایشن آف ایستھیٹکس پلاسٹک سرجنز کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کے مطابق پلاسٹک سرجری کے لیے ورچوئل مشاورت میں 70 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔

دنیا بھر کے کاسمیٹک ڈاکٹرز اور پلاسٹک سرجنز نے پلاسٹک سرجری کے اس رجحان کو ‘زوم بوم’ قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا کہ ویڈیو کالز پر ایک طویل وقت گزارنے کی وجہ سے مردوں سمیت کئی افراد نے کاسمیٹک سرجری کے لیے رجوع کیا ہے۔

اس حوالے سے انجیکشنز لگوانے کے لیے سب سے زیادہ رجوع کیا گیا، جبکہ دیگر افراد جسمانی خوبصورتی بڑھانے اور لائپوسیکشن کے بھی خواہاں ہیں۔

برطانیہ میں مقیم ڈاکٹرز کا کہنا ہے زوم بوم کی وجہ سے نان-انویسو فیشل پروسیجرز جیسا کہ بوٹوکس، فلرز یا اسکن ری سرفیسنگ (جس کے لیے چہرے کے تاثرات سے پڑنے والی لکیروں اور جھریوں کو ٹھیک کیا جاتا ہے) کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کے مطابق ‘نیک ریجوینیشن’ (گردن کے گرد جلد کو کم کرنے سے متعلق سرجری) اور ‘جا لائن کونٹورنگ’ (جبڑے کے نچلے حصے کے کنارے کی بناوٹ ) سے متعلق سرجریز کی مانگ میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے کیونکہ لوگ زیادہ تر وقت کمپیوٹر کے کیمرے میں دیکھتے ہوئے گزار رہے ہیں اور اس سے ان کی توجہ جسم کے ان حصوں پر مرکوز ہوتی ہیے۔
حالانکہ تاریخی طور پر کاسمیٹک سرجریز کی خواہاں خواتین کی تعداد کا تناسب مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، لیکن زوم بوم صرف خواتین کے لیے نہیں ہیں۔

لندن کے ڈاکٹر میڈی اسپا کلینک کے کاسمیٹک ڈاکٹر منیر سومجی نے کہا کہ ان کے پاس ہیئر ٹرانسپلانٹ کے خواہشمند افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا کیونکہ ویڈیو کالز کے دوران ان کا وقت اپنے بالوں کو دیکھتے ہوئے گزرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ زوم کال پر دیکھ رہے ہوتے ہیں اور آپ زیادہ روشنی والے کمرے میں ہوتے ہیں تو آپ کچھ بھی کریں بال کم ہی لگیں گے۔

علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر زوم ویڈیو کالز پر اچھا دکھائی دینے سے متعلق بحث بھی دیکھی جارہی ہے جہاں لوگ زیادہ تر میک اپ، لائٹنگ پر بات کرتے ہیں۔

 




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *