دوپہر کی نیند سے جسم میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں؟ جانیے تفصیلات


طبی ماہرین رات کو 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لینے کا مشورہ دیتے ہیں مگر بیشتر افراد اس پر عمل نہیں کرپاتے۔

اب اس کی وجہ کچھ بھی ہو مگر یہ سب کو معلوم ہے کہ نیند کی کمی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے اور اس کا حل دوپہر کو کچھ دیر کے لیے سونے یا قیلولے میں چھپا ہے۔

قیلولہ صرف بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ متعدد تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ دوپہر کی نیند بالغ افراد کے لیے بھی بہت مفید ہے۔

دوپہر کو کچھ دیر کی نیند یادداشت تیز، دفتری کارکردگی بہتر، مزاج خوشگوار، ذہنی و جسمانی چستی اور تناؤ میں کمی لاتی ہے۔

یہاں قیلولے کے ایسے فوائد بتائے جارہے ہیں جن کی سائنس نے تصدیق کی ہے۔

یادداشت کو بہتر بنائے
تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا کہ نیند یادوں کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، دوپہر کی نیند سے دن بھر میں جو کچھ سیکھتے ہیں، انہین یاد رکھنے میں رات کی مکمل نیند مدد ملتی ہے۔

قیلولے سے مختلف دماغی افعال بھی بہتر ہوتے ہیں جو یادداشت کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تفصیلات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت بہتر
قیلولے سے نہ صرف سیکھی ہوئی چیزیں یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ یہ دماغ کو ان چیزوں کے درمیان تعلق بنانے میں بھی مددگار ہے جو آپ سیکھتے ہیں۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دوپہر کو سونے کے عادی افراد دن بھر کے لیے دن بھر کی تفصیلات کو اکٹھا اور منظم کرنا آسان ہوتا ہے۔

کارکردگی بہتر بنائے
جب آپ دن بھر میں ایک ہی کام بار بار کرتے ہوں تو کارکردگی دن گزرنے کے ساتھ بدتر ہوتی چلی جاتی ہے۔

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ دن میں کچھ منٹ کا قیلولہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

مزاج خوشگوار بنائے
اگر چڑچڑا پن محسوس کررہے ہیں تو دوپہر کو کچھ دیر کی نیند یا محض آرام بھی مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ دیر سکون سے لیٹ کر آرام کرنا مزاج کو خوشگوار بناتا ہے، چاہے آپ نیند کے مزے لے یا نہیں۔

ذہنی و جسمانی چستی
اگر دوپہر کے کھانے کے بعد غنودگی اور سستی محسوس کررہے ہیں تو ایسا صرف آپ کے ساتھ ہی نہیں ہوتا۔

دوپہر کے کھانے کے بعد اس طرح کی سستی کا سامنا کروڑوں افراد کو ہوتا ہے اور اس وقت 20 منٹ کا قیلولہ اس کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

مختصر دورانیہ ہی بہتر
محض 10 منٹ کا قیلولہ بھی صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے مگر ضروری ہے کہ دوپہر کی نیند کا وقت 30 منٹ یا اس سے بھی کم ہونا چاہیے تاکہ تھکاوٹ کا سامنا ہو۔

اگر آپ زیادہ دیر تک یعنی ایک گھنٹے تک قیلولہ کرتے ہیں تو اس بات کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ جب بیدار ہوں گے تو ذہنی دھند کا سامنا ہوگا، جس کے بعد مکمل طور پر بیداری کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔

قیلولہ کیفین سے بہتر
اگر آپ تھکاوٹ محسوس کررہے ہیں مگر کام یا پڑھائی کرنا ہے تو کافی یا چائے کی بجائے قیلولے کو ترجیح دیں۔

کفین کے مقابلے مین قیلولہ یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر کرتا ہے۔

نیند کی کمی دور کرے
اگر آپ کو معلوم ہے کہ ایک یا 2 راتوں تک رات کو بھرپور نیند سے محروم رہیں گے تو طویل قیلولے سے مدد لے سکتے ہیں۔

ان حالات میں مختصر کی بجائے دوپہر کو جتنی دیر تک سو سکیں بہتر ہے۔

تناؤ میں کمی
اگر آپ کو بہت زیادہ دباؤ کا سامنا ہے تو کچھ دیر کا قیلولہ تنائو کو خارج اور مدافعتی صحت کو بہتر کرسکتا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مقصد کے لیے 30 منٹ کی نیند مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

دل کی صحت بہتر بنائے
قیلولہ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ دوپہر میں سونے کے عادی ہوتے ہیں ان میں بلڈ پریشر کی سطح ذہنی تناؤ کے مراحل میں کم رہتی ہے۔

آسان الفاظ میں قیلولہ تناؤ والی صورتحال میں جسم کو ریکور کرنے مین مدد دیتا ہے۔

تخلیقی صلاحیت بڑھائے
قیلولہ کے بعد لوگوں کا ذہن تازہ دم اور غنودگی کی کیفیت محسوس نہیں ہوتی، جس کے نتیجے میں ذہن کی تخلیقی صلاحیت کو فائدہ پہنچتا ہے۔

اس کی مثال کچھ اس طرح ہے جب کمپیوٹر پر بہت زیادہ اوورلوڈ ہو یعنی بہت زیادہ فائلز اوپن ہو تو اسے ری بوٹ کیا جاتا ہے تاکہ اس کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے، ایسا ہی کچھ دوپہر کی نیند سے بھی ہوتا ہے جو ذہن کی صفائی کرکے اس کے لیے مسائل کا حل اور نئے آئیڈیاز کی تلاش آسان بنادیتا ہے۔

رات کی اچھی نیند میں مددگار
اگرچہ یہ غیرمنطقی محسوس ہوگا مگر دوپہر کو سونا بزرگ افراد کو رات میں اچھی نیند میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق دوپہر ایک سے 3 بجے کے دوران 30 منٹ کی نیند اور شام میں کچھ دیر کی چہل قدمی رات کے وقت نیند کو بہتر بنانے میں مددگار ہے، جبکہ ایسا کرنے سے ذہنی اور جسمانی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔

بچوں کے لیے بھی مفید
اسکول جانے سے پہلے اکثر بے دوپہر کو سونا چھوڑ کے ہوتے ہیں مگر یہ عادت اس عمر میں سیکھنے اور نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہے۔

جو بچے دوپہر کو سونے کے عادی ہوتے ہیں ان کی یادداشت بہتر ہوتی ہے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *