دنیا کی کل معیشت سے کئی گنا زیادہ مالیت والا سیارچہ دریافت


امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے مریخ اور مشتری کے مدار میں گردش کرنے والا ایک ایسا سیارچہ دریافت کیا ہے جس میں موجود قیمتی دھات اور دیگر خزانوں کی مالیت دنیا کی کل معیشت سے کئی گنا زیادہ ہے۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایسٹرائیڈ 16 سائیکی (16 Psyche) کے نام سے معروف اس سیارچے سے متعلق ریسرچرز کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر لوہے اور نکل سے بنا ہوا ہے اور اگر ان کی قیمت کا اندازہ لگایا جائے تو یہ ایک کروڑ کھرب ڈالرز کی مالیت بنتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ناسا نے ہبل نامی ٹیلی اسکوپ کی مدد سے سیارچے کی تصاویر اکھٹی کی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ سارچہ دنیا سے 370 ملین کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔

16 سائیکی نامی سیارچہ سب سے پہلے 1852 میں دریافت کیا گیا تھا تاہم یہ پہلا موقع ہے جب سائنسدانوں نے ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اس کی لی گئی تصاویر کا جائزہ لیا ہے۔

ٹریسی بیکر نامی سائنسدان اور محقق نے اس حوالے سے اپنے رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ سیارچہ کسی سیارے سے بچھڑ کر مدار میں گردش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی طریقے سے اس سیارچے کو زمین پر لایا جا سکے تو دنیا کی 7.8 ارب کی آبادی میں ہر فرد کو 1.2 ارب ڈالر مل سکتے ہیں۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *