بحرین کی بڑی کامیابی، کورونا وائرس کو ختم کرنے کے لیے روبوٹ تیار


بحرین میں ایسا روبوٹ تیار کرلیا گیا ہے جو الٹرا وائلٹ شعاعوں کے ذریعے کرونا وائرس سمیت بیشتر جراثیموں کا خاتمہ کرسکتا ہے۔

بحرین کی فیب لیب میں تیار کیا جانے والا روبوٹ شارٹ ویو تابکار شعاعوں کو مختلف سطحوں پر پھینکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی روشنی اتنی طاقتور ہے کہ یہ 30 منٹ کے اندر 90 فیصد مختلف اجسام بشمول جراثیموں اور وائرسز کو ختم کرسکتا ہے۔

اس مشین کو فی الحال مخصوص ماحول میں ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جب یہ مشین مکمل طور پر تیار ہوجائے گی تو اسے مناسب قیمت پر فروخت کیا جائے گا۔

اس وقت مختلف خوردبینی اجسام کے خاتمے کے لیے اس آئیڈیے پر دنیا بھر میں کام کیا جارہا ہے، امریکا میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے بھی الٹرا وائلٹ شعاعوں کے ذریعے جراثیموں کے خاتمے کی مشین تیار کی ہے۔

ڈنمارک میں تیار کی جانے والی ایسی مشین 20 منٹ کے اندر کسی کمرے کو جراثیموں اور وائرسز سے پاک کردیتی ہے، اس کی مالیت 67 ہزار ڈالرز ہے۔

ایک چینی کمپنی نے بھی اپنے تیار کردہ روبوٹ کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ روبوٹ میزوں اور کرسیوں کے درمیان گھوم گھوم کر الٹرا وائلٹ شعاعیں پھینک رہا ہے۔

 اس دوران تمام افراد کو اس جگہ سے باہر رہنا ہوتا ہے کیونکہ اس کی طاقتور شعاعیں انسانی خلیات کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ یہ الٹرا وائلٹ شعاعیں وائرس کے خلیات کی جھلی کو توڑ دیتی ہے جس کے بعد اس کا ڈی این اے بکھر کر ٹکڑوں میں تقیسم ہوجاتا ہے۔

بحرین میں تیار کردہ روبوٹک مشینیں فی الحال اسپتالوں کے آئسولیشن وارڈز میں استعمال کی جارہی ہیں۔

یہ روبوٹ 12 زبانیں بول سکتے ہیں، سامنے آنے والے شخص کا درجہ حرارت چیک کر سکتے ہیں، عملے کی آواز کے مطابق کام کرسکتے ہیں جبکہ مریضوں کے چہروں کی شناخت بھی کرسکتے ہیں۔

بحرین کی وزارت طب نے اس روبوٹ کو طب کے شعبے میں انقلاب قرار دیا ہے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *