ایک ایسا انوکھا اسمارٹ فون، جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے


چینی کمپنی ویوو ایک ایسا حیران کن کانسیپٹ فون پر کام کررہی ہے جو صحیح معنوں میں دنگ کردینے والا ہے۔ اس فون کا بیک کیس ایک بٹن کے دبانے پر اپنی رنگت بدل لیتا ہے۔

چینی کمپنی ویوو نے 2018 میں ایک ایسا کانسیپٹ فون پیش کیا تھا جس میں بیزل نہ ہونے کے برابر تھے جبکہ سیلفی کیمرے کے لیے کوئی نوچ نہیں تھا، اس ڈیوائس کو ایپکس کا نام دیا گیا تھا۔

گزشتہ سال اس کمپنی نے پہلے سے زیادہ بہتر ماڈل ویوو ایپکس 2019 پیش کیا جس میں کسی قسم کا بٹن اور پورٹ نہیں تھی۔

اسی طرح ایپکس 2020 پیش کیا گیا جو کمپنی کا پہلا فون تھا جس میں سیلفی کیمرا اسکرین کے اندر دیا گیا تھا۔

مگر اب یہ کمپنی ایک ایسا حیران کن کانسیپٹ فون پر کام کررہی ہے جو صحیح معنوں میں دنگ کردینے والا ہے۔

کمپنی کی جانب سے چین کی مقبول سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں نئے فون کی تصدیق کی گئی، جس کا نام یا متعارف کرانے کی تاریخ تو معلوم نہیں، مگر یہ ضرور پتا چل گیا ہے کہ وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدل سکتا ہے۔

جی ہاں واقعی اس فون کا بیک کیس ایک بٹن کے دبانے پر اپنی رنگت بدل لیتا ہے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس حیران کن اثر کے لیے اس نے الیکٹرو کرومک گلاس کو استعمال کیا ہے۔

رواں سال جنوری میں سی ای ایس نامی ٹیکنالوجی نمائش میں پیش کیے جانے والے ون پلس نے اپنے کانسیپٹ ون فون کے لیے اسی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا تھا جو بیک کیمرے کو نظروں سے اوجھل کردیتی ہے۔

مگر ویوو نے اس سے بھی ایک قدم آگے جاکر اس ٹیکنالوجی کا استعمال گوگل کے بیک گلاس کی رنگت بدلنے کے لیے کیا جو کہ زیادہ متاثرکن ہے۔

اس نامعلوم فون کی رنگت بظاہر سائیڈ میں موجود ایک بٹن کو دبانے سے بدلتی ہے، یعنی اگر سفید ہے تو ایک لمحے بعد گہرے نیلے رنگ کا ہوسکتا ہے۔

ویڈیو میں فون کے کیمرے کو چھپایا گیا مگر بظاہر یہ کمپنی کے حالیہ ایکس 50 فلیگ شپ فون سے ملتا جلتا محسوس ہوتا ہے۔

اب یہ تو معلوم نہیں کہ ویوو مستقبل قریب میں اسے عام افراد کے لیے متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے یا نہیں، کیونکہ اکثر کانسیپٹ فونز فروخت کے لیے پیش نہیں کیے جاتے، تاہم دیگر فونز میں اس طرح کی ٹیکنالوجی کو کسی شکل میں ضرور شامل کردیا جاتا ہے۔

ویوو کے ایپکس 2018 میں پوپ اپ سیلفی کیمرا پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا اور چند ماہ بعد ویوو کے فلیگ شپ نیکس ایس کے ذریعے وہ عام لوگوں تک پہنچ گیا تھا۔






Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *