اسپرے جو کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں مددگار


طبی ماہرین ایسے اسپرے کی تیاری کررہے ہیں جو کورونا وائرس کی شدت میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جس کے نتائج جانوروں پر اب تک حوصلہ افزا رہے ہیں۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسینز کی تیاری پر کام ہورہا ہے مگر آسٹریلیا کے سائنسدانوں کی جانب سے دیگر ذرائع کو بھی آزمایا جارہا ہے۔

آسٹریلین محققین کے اس دوا جیسے مالیکیول کو ناک میں اسپرے کی شکل میں استعمال کیا جاسکے گا جس کے ابتدائی کام کے نتائج جاری کیے گئے ہیں۔

ان نتائج کے مطابق یہ اسپرے نتھوں کے خلیات سے رابطہ قائم کرکے جسم کے قدرتی مدافعتی نظام کو متحرک کرتا ہے۔

ویکسینز کے نتیجے میں مدافعتی ردعمل سے اینٹی باڈیز اور ٹی سیلز کسی مخصوص جراثچیم کے خلاف متحرک ہوتے ہیں، مگر قدرتی مدافعتی نظام متعدد اقسام کے جراثیموں کے خلاف کام کرتا ہے۔

اینا ریسیپٹری نامی بائیو ٹیک کمپنیی کے ماہرین کی جانب سے اس اسپرے پر کام کیا جارہا ہے جو ایک دفاعی ڈھال کی طرح کام کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسپرے اینا 051 سے قدرتی مدافعتی نظام متحرک ہوتا ہے جو وائرس کو خلیات کے اندر نقول بنانے سے روکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے اور محققین کا کہنا تھا کہ اسپرے کو فیریٹ نامی جانوروں کے 3 گروپس کے ناکوں پر مختلف مقدار میں استعمال کیا گیا۔

ہر گروپ میں 6 فیریٹ تھے اور ایک چوتھا گروپ بھی تھا جسے اسپرے کی بجائے placebo دیا گیا۔

اس کے 5 دن بعد ان جانوروں کو کورونا وائرس سے متاثر کیا گیا اور دریافت کیا گیا کہ جن کو اسپرے استعمال کرایا گیا تھا ان میں وائرل آر این اے یا وائرس کے جینیاتی مواد کی مقدار چوتھے گروپ کے مقابلے میں 96 فیصد کم تھی۔

ابھی انسانوں پر اس کی آزمائش ہونی ہے تاکہ دریافت کیا جاسکے کہ انسانوں میں یہ وائرس کے خلاف موثر اور محفوظ ہے یا نہیں۔

ماہرین کے مطابق اینا 051 پر مشتمل اسپرے حفاظتی قدم کے طور پر ہفتے میں 2 بار استعمال کیا جاسکے گا۔

خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو کورونا وائرس کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوں۔

ماہرین نے بتایا کہ توقع ہے کہ اس سے وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی شدت اور دورانیے کو کم رکھنے میں مدد مل سکے گی جبکہ ناک میں وائرل ذرات کی تعداد بھی کم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسا ہونے سے وائرس کے ایک سے دوسرے فرد میں منتقلی کا امکان بھی ہوگا، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *