اب آپ چین میں تجرباتی کووڈ 19 ویکسین حاصل کرسکتے ہیں


لی شوری نامی 22 سالہ طالبعلم کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے چین سے واپس برطانیہ کی یونیورسٹی میں جانا تھا مگر وہ اپنی زندگی کو کووڈ 19 سے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔

تو کسی ہچکچاہٹ کے بغیر اس نے ایک تجرباتی کورونا وائرس ویکسین کو لینے کا فیصلہ کیا۔

طالبعلم نے چین کے دارالحکومت بیجنگ کے ایک نجی ہسپتال میں سینویک نامی کمپنی کی تیار کردہ کورونا ویک کے 2 انجیکشن 2 ہزار چینی یوآن (48 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) میں لگوائے۔

کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اس ویکسین نے ابھی تیسرے مرحلے کے حتمی کلینیکل ٹرائلز کو مکمل نہیں کیا مگر عوام کو پہلے آئیے پہلے پائیے، کی بنیاد پر دستیاب ہے۔

کوئی بھی پیسے خرچ کرکے اس ویکسین کو حاصل کرسکتا ہے اور لی شوری کے مطابق جب وہ ویکسین کے لیے نجی ہسپتال میں پہنچا تو سیکڑوں افراد قطار میں اس کے لیے کھڑے تھے۔

لی شوری نے ٹائم میگزین کو بتایا ‘میں ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس کے حوالے سے زیادہ پریشان نہیں تھا بلکہ بیرون ملک وائرس کا شکار ہونے کی فکر زیادہ تھی، مگر ویکسین کے استعمال کے بعد سے مجھے کسی قسم کے مسئلے کا سامنا نہیں ہوا’۔

چین میں صرف کورونا ویک ہی عام لوگوں کو دستیاب نہیں بلکہ وہاں بڑے پیمانے پر کورونا ویکسینز کو متعارف کرایا جارہا ہے۔

چین کی جانب سے ستمبر میں اعلان کیا گیا تھا کہ اب تک لاکھوں شہریوں کو 2 تجرباتی ویکسینز کا استعمال کرایا گیا ہے جو اس وقت کلینیکل ٹرائلز کے تیسرے مرحلے سے گزر رہی ہیں۔

سی این بی جی کے سیکرٹری زاؤ سونگ نے چائنا نیشنل ریڈیو کو بتایا کہ ویکسین استعمال کرنے والے کسی بھی فرد میں کوئی مضر اثر نظر نہیں آیا اور نہ ہی کوئی کووڈ سے متاثر ہوا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ویکسین سے ایک فرد کو ممکنہ طور پر 3 سال تک کورونا وائرس سے تحفظ مل سکے گا۔

ان کا کہنا تھا ‘جانوروں پر ہونے والے تجربات کے نتائج اور دیگر تحقیقی نتائج سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ ویکسین سے ملنے والا تحفظ ایک سے 3 سال تک برقرار رہ سکتا ہے’۔

رواں ہفتے چین کے ایک شہر یوو میں سیکڑوں افراد کورونا ویک کے 60 ڈالرز کے ڈوز کے لیے قطاروں میں لگے تھے۔

سڈنی یونیورسٹی کے عالمی صحت سیکیورٹی کے ماہر ایسوسی ایٹ پروفیسر ایڈم کمراڈٹ نے اس بارے میں کہا ‘یہ دیوانہ پن ہے، ایسی عوامی صحت کی مشق کے بارے میں کبھی نہیں سنا گیا، ہمارے پاس ماضی کی مثالیں ہیں جب ویکسینز کو طویل عرصے تک کلینیکل ٹرائلز سے قبل متعارف نہیں کرایا گیا’۔

کورونا وائرس کی وبا اب 11 ویں مہینے میں داخل ہوچکے ہیں جس کے دوران 4 کروڑ سے زائد کیسز کی تصدیق اور 11 لاکھ سے زیادہ ہلاک ہوچکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کرشماتی علاج کی طلب بڑھ چکی ہے۔

چین میں کووڈ 19 کے کیسز اب نہ ہونے کے برابر ہیں اور اسی وجہ سے وہاں کی کمپنیوں کی ویکسینز کے ٹرائلز بیرون ملک ہورہے ہیں۔

یہ ایسے ٹرائلز نہیں جن میں سائنسدان دانستہ طور پر ویکسینیشن سے گزرنے والے رضاکاروں کو وائرس سے متاثر کی جاتا ہے (ایسا ایک ٹرائل آئندہ سال کے شروع میں برطانیہ میں شروع کونے کا اعلان ہوا ہے)۔

چین کی طرح امریکا میں بھی کورونا ویکسینز کی فوری تیاری پر زور دیا جارہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی انتخابات کے موقع پر ایک ویکسین کی دستیابی کے لیے ریگولیٹرز اور کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

مگر وہاں ویکسینز پر کام کرنے والی کمپنیوں جیسے فیزر نے بتایا کہ امریکا میں اس کی ویکسین ایمرجنس استعمال کے لیے نومبر کے آخر تک متعارف کرائی جاسکتی ہے جبکہ موڈرینا نے بھی ایمرجنس استعمال کے لیے اسی طرح کے دورانیے کا اعلان کیا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر ویکسین کی تقسیم کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال موسم بہار سے قبل ممکن نہیں۔

مگر امریکا کے مقابلے میں چین کی صورتحال مختلف ہے جہاں وائرس کو مقامی طور پر لگ بھگ کنٹرول کیا جاچکا ہے اور اب زیادہ تر بیرون ملک سے آنے والے افراد میں ہی کیسز کی تشخیص ہورہی ہے۔

لی شوری کے مطابق اس وقت چین میں وبا کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں یہاں تک کہ اب فیس ماسک کا استعمال بھی لازمی نہیں رہا۔

مگر چین کی جانب سے ویکسینز کی تیاری پر بھرپور کام کیا جارہا ہے اور وہ خود کو اس وبا کے حل کا بنیادی ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ اتھارٹی نے تخمینہ لگایا ہے کہ 2020 کے آخر تک چین کی کووڈ 19 ویکسین تیار کرنے کی گنجائش 61 کروڑ تک پہنچ جائے گی جبکہ سینوفارم کے سربراہ نے بایا کہ ان کی کمپنی اگلے سال ایک ارب سے زیادہ ڈوز تیار کرے گی۔

سینویک نے کورونا ویک کے 4 کروڑ ڈوز انڈونیشیا کو مارچ 2021 تک فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ برازیل میں ساؤ پاؤلو کے گورنر نے بتایا کہ برازیل کی وفاقی حکومت نے بھی اس ویکسین کے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈوز خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے رواں ہفتے کہا تھا ‘کورونا ویک کے برازیل میں جاری حتمی کلینیکل ٹرائل کے ابتدائی نتائج میں ثابت ہوا ہے کہ ملک میں ٹرائلز سے گزرنے والی دیگر ویکسینز کے مقابلے میں کورونا ویک سب سے زیادہ محفوظ ہے’۔

واضح رہے کہ اگست میں چین نے کہا تھا کہ کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے ویکسینز کی منظوری اسی صورت میں دی جائے گی جب ان کی افادیت کی شرح کم از کم 50 فیصد اور کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت 6 ماہ تک برقرار رکھ سکے گی۔

چین کے سینٹر فار ڈرگ ایولوشن (سی سی ڈی ای) کا تجویز کردہ مسودہ سامنے آیا ہے جس میں کورونا ویکسین کے حوالے سے ضوابط دیئے گئے ہیں۔

مسودے کے مطابق ویکسینز کے ہنگامی استعمال کے لیے کم از کم افادیت کی شرح رکھی گئی ہے اور ان میں ایسی ویکسین بھی شامل ہوگی جس کا کلینیکل ٹرائل مکمل نہ ہوا ہو مگر افادیت کو دیکھتے ہوئے اس کے استعمال کی منظوری دے دی جائے گی۔

ویکسین کی افادیت کے حوالے سے چینی گائیڈلائنز میں عالمی ادارہ صحت اور یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ہدایات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *