آکسفورڈ یونیورسٹی کی کووڈ ویکسین سے متعلق اہم پیشرفت


برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی آسترازینیکا کی کووڈ 19 ویکسین 55 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے محفوظ اور کورونا وائرس کے خلاف مدافعتی ردعمل پیدا کرتی ہے۔

طبی جریدے دی لانسیٹ میں اس ویکسین کے ابتدائی ٹرائل کے حوصلہ افزا نتائج جاری کیے گئے ہیں۔

اس ٹرائل میں 560 افراد شامل تھے اور ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ ویکسین ہر عمر کے افراد کے لیے محفوظ اور نوجوان و معمر افراد کے مدافعتی نظام پر یکساں اثرات مرتب کرتی ہے۔

اس ویکسین کے لیے ایڈنو وائرس ویکٹر پلیٹ فارم کو استعمال کیا گیا اور اس پر مبنی ویکسینز کو اب تک معمر افراد پر آزمایا نہیں گیا یا آزمائش کی گئی تو نوجوانوں کے مقابلے میں نتائج بدتر رہے۔

نتائج میں بتایا گیا کہ ٹرائل میں شامل کسی بھی رضاکار کو غیرمتوقع اور سنگین مضر اثرات کا سامنا نہیں ہوا۔

ابھی یہ تو معلوم نہیں کہ یہ وائرس کووڈ 19 سے بچانے کے لیے موثر ہے یا نہیں مگر اس کے آخری مرحلے کے نتائج آئندہ چند ہفتوں میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے بی بی سی ریڈیو 4 سے بات کرتے ہوئے بتایا ‘ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور یقیناً کرسمس سے پہلے نتائج جاری ہوسکتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا ‘میرے خیال میں جس وجہ سے ہم اتنے خوش ہیں وہ یہ ہے کہ ہر عمر کے افراد میں اس ویکسین کے استعمال سے مدافعتی ردعمل یکساں ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے یہ بھی دریافت کیا جو انتہائی اہم ہے وہ یہ ہے کہ ویکسین 55 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے محفوظ ہے۔

ان کے بقول ‘ہم جانتے ہیں کہ اس طرح کی ویکسینز عموماً معمر افراد پر مضر اثرات مرتب کرتی ہیں، مگر ہماری ویکسین میں یہ شرح بہت، بہت ، بہت کم ہے، بالخصوص 70 سال سے زائد عمر کے افراد میں’۔

آکسسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے اس ویکسین کا انسانی ٹرائل اپریل میں شروع کیا تھا جبکہ اس کی افادیت کو جانچنے کے لیے تیسرے مرحلے کے ٹرائل کا آغاز اگست میں ہوا۔

اس سے قبل فائزر اور موڈرینا نے اپنی ویکسینز کے آخری مرحلے کے نتائج کا اعلان کیا، جبکہ آکسفورڈ یونیورسٹی اس دوڑ میں پیچھے رہ گئی، جس کی وجہ موسم گرما میں کووڈ 19 کے کیسز کی شرح میں ان ممالک میں کمی آنا ہے، جہاں اس کے ٹرائلز ہورہے ہیں۔

اس کے باعث ٹرائل میں شامل افراد کو کووڈ 19 کا سامنا کم ہوا اور ویکسین کی افادیت کی جانچ پڑتال کے لیے مخصوص تعداد میں کیسز کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ وہ پلیسبو سے موثر ہے۔

پروفیسر اینڈریو کا کہنا تھا کہ ہماری تحقیق کے کنٹرول گروپ میں کچھ کیسز سامنے آئے ہیں، جن سے ہم ویکسین کے موثر ہونے کا تجزیہ کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔

برطانوی حکومت اس ویکسین کے 10 کروڑ ڈوز کا آرڈر دے چکی ہے، جبکہ فائزر سے 4 کروڑ اور موڈرینا سے 50 لاکھ ڈوز خریدیں جائیں گے۔

مگر پروفیسر اینڈریو نے کہا کہ کمپنیوں کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں ‘ہمیں دنیا بھر میں لاتعداد افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہے’۔

اس سے قبل رواں ماہ کے شروع میں آسترا زینیکا کے چیف ایگزیکٹیو پاسکل سوریوٹ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ ویکسین اگلے ماہ تک تیار ہوسکتی ہے۔

کررہے ہیں، اگر وہ ہمارے تیار ہونے پر تیزرفتاری سے کام کریں گے تو ہم لوگوں کو جنوری یا دسمبر کے آخر تک ممکنہ طور پر ویکسین فراہم کرنا شروع کردیں گے’۔

آکسفورڈ یونیورسٹی اور آسترازینیکا کی اس ویکسین کو کورونا وائرس کے علاج کے لیے چند بہترین کوششوں میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے، جس کے لیے کئی ماہ سے کام جاری ہے۔

پاسکل سوریوت کا کہنا تھا ‘اگرچہ ہم کبھی اس ویکسین سے کما نہیں سکیں گے، مگر ابھی کسی کو معلوم نہیں کہ لوگوں کو کب تک ویکسینیشن کی ضرورت ہوگی، اگر یہ ویکسین بہت موثر ہوئی اور لوگوں کو کئی برسوں تک تحفظ ملا، جس دوران یہ بیماری غائب ہوگئی تو پھر اس کی کوئی مارکیٹ نہیں ہوگی’۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بیشتر ماہرین کا ماننا ہے کہ لوگوں کو دوبارہ ویکسین کی ضرورت ہوگی، اگر ایسا سالانہ بنیادوں پر ہوا ہم اس ویکسین سے 2022 میں آمدنی حاصل کرنا شروع کردیں گے۔

انہوں نے مزید کہا ‘مگر ہمیں اس سے پہلے یقین کرنا ہوگا کہ ویکسین واقعی کارآمد ہے’۔

برطانوی یونیورسٹی پہلے ہی سوئیڈن سے تعلق رکھنے والی فارماسیوٹیکل کمپنی آسترا زینکا کے ساتھ ویکسین کے ڈوز تیار کرنے کے لیے شراکت داری کرچکی ہے اور دنیا کو اس وبائی مرض سے بچانے کے لیے مختلف اداروں جیسے سیرم انسٹیٹوٹ آف انڈیا (ایس آئی آئی)، کولیشن آف ایپی ڈیمیک پریپرڈنس انوویشن (سی ای پی آئی) اور گاوی ویکسین الائنس کو بھی ساتھ ملایا گیا ہے۔

مائیکرو سافٹ کے بانی کے فلاحی ادارے بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے زیرتحت تیار ہونے والی۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *